خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد ۱۰ 662 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء غلط بھی ہو سکتا ہے۔کچھ چھپانے والے چھپالیتے ہیں اس لئے دوسرے کی نیت کا فتوران بیچاروں کے لئے جہنم بن گیا۔تبھی قرآن کریم کی وہ آیات جو نکاح کے موقعہ پر تلاوت کی جاتی ہیں وہاں تقویٰ کی تکرار پائی جاتی ہے ایک کا تقویٰ کافی نہیں ہو گا تم دونوں کے لئے ضروری ہے کہ تقویٰ اختیار کرو ورنہ ممکن ہے کہ ایک طرف کا تقویٰ ضائع چلا جائے کیونکہ دوسرا فریق تقوی اختیار نہیں کرتا اور ایک کے ظلم کے نتیجے میں دوسرا فریق بھی مظلوم ہو جائے گا۔پس ایسے واقعات بھی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن ان کا ایک ہی حل ہے اور وہ حل حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش کیا اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی اور آپ نے ہمیں اس مسئلے اور اس کے حل سے مطلع فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ سنت تھی کہ آپ جب خانہ کعبہ آباد ہو گیا اور آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا گھر آباد ہوا اور وہاں بڑی رونق ہوئی تو آپ اس عرصہ میں کئی بار دوبارہ وہاں تشریف لائے اور وہاں جا کر آپ حالات کا جائزہ لیا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب آپ وہاں تشریف لائے تو حضرت اسماعیل موجود نہیں تھے۔آپ نے ان کی بیوی سے گفتگو کی اور یہ معلوم کیا کہ بیوی نہ مہمان نواز ہے نہ اور اخلاق سے آراستہ ہے بلکہ ایک ایسی قسم کی چیز ہے جو اسماعیل کی شایان شان نہیں۔چنانچہ انہوں نے چونکہ جلدی جانا تھا اور حضرت اسماعیل کسی لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے اس لئے بیوی کو یہ کہا کہ جب تمہارا میاں واپس لوٹے تو اس کو کہنا کہ تمہارا باپ آیا تھا اور یہ نصیحت کر گیا ہے کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بدل دو۔چنانچہ حضرت اسماعیل نے جب یہ بات سنی تو فوراً اس بیوی کو طلاق دی اور کہا کہ میرے باپ نے جو نصیحت کی ہے وہ برحق ہے اور اس کے بعد پھر دوسری شادی کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسی نیک اور پارسا خاتون تھیں کہ اس کے نتیجہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی اعے بھی بعد ازاں اسی کی صلب سے پیدا ہوئے تو دیکھیں کہ اچھی اور نیک بیوی کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔اگر اس وقت کوئی یہ اعتراض کرتا کہ دیکھیں حضرت ابراہیم کو کیا حق تھا کہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے اور بیٹے کے گھر کو برباد کر کے وہاں طلاق واقع کروا دیتے تو اس جاہل کو یہ پتا نہیں کہ جو اصل اللہ ہوتے ہیں، جو خدا تعالیٰ کے نور سے روشن ہوتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے فراست پاتے ہیں۔ان کو پتا ہے کہ کس چیز کو اہمیت دینی ہے اور کونسی دوسری چیزیں بے معنی اور حقیر ہیں۔آپ جانتے تھے کہ حضرت