خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد ۱۰ 658 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء خاوند میں بجائے اس کے کہ دنیا کی وجاہتیں تلاش کی جائیں اگر یہ دیکھا جائے کہ نیک مزاج ہو، حلیم طبع ہو، شریف النفس ہو، پیار کرنے والا ہو، دوسرے کی خوبیوں کی قدر کرنے والا ہو، دوسرے کی بدیوں سے صرف نظر کرنے والا ہو حو صلے والا انسان ہو تو خواہ وہ نسبتا غریب بھی ہو یا آغاز میں غریب بھی ہو تو ایسے شخص کے ساتھ لڑکی کو رخصت کرنا لڑکی کو جنت کے سپر د کر نے والی بات ہوا کرتی ہے اور اگر اس وقت نہیں تو کچھ عرصے کے بعد خدا تعالیٰ ان کے مالی حالات بھی درست فرما دیا کرتا ہے اور بہت سی برکتوں سے ایسے گھروں کو بھر دیتا ہے جہاں تک ظاہری شکل کے پیچھے چلنے والے یا ظاہری شکلوں کو معیار بنانے والے نو جوانوں کا تعلق ہے ان کا شکل کو اتنی اہمیت دینا اُن کے لئے بعد میں مزید اور مسائل پیدا کر دیتا ہے کیونکہ لڑکی کی شکل ہمیشہ ویسی نہیں رہا کرتی اور کچھ دیر کے بعد ایک شکل کو دیکھ دیکھ کر اس سے دل بھی بھر نے لگ جاتا ہے۔بیاہ سے پہلے کی دکھائی ہوئی شکل اور چیز ہے اور بیاہ کے چند مہینے کے بعد یا حمل کی حالت میں اسی بیوی کو ، اسی شکل کو دیکھنا یہ بالکل اور نظارہ ہے اور شکل کی تمنا اُن کے اوپر ایسی غالب ہوتی ہے کہ وہ باہر شکلیں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ان کے گھر برباد ہو جاتے ہیں۔یہ ناممکن ہے کہ شکل کے ساتھ وفا پیدا ہو سکے۔وفا ہمیشہ گنوں سے ہوتی ہے۔وفا ہمیشہ حسن اخلاق سے پیدا ہوتی ہے خالی صورت سے کوئی وفا نہیں پیدا ہوتی۔ایک بزرگ کے متعلق قصہ آپ نے بھی سنا ہے۔میں آپ کو سنا چکا ہوں لیکن شاید بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو نہ سُن سکے ہوں۔وہ قصہ اس صورتحال پر خوب اطلاق پاتا ہے۔ایک بزرگ کی بیٹی سے کسی کو محبت ہو گئی اور وہ شخص ایسا تھا جس کے متعلق ان کا یہ فیصلہ تھا کہ یہ اچھا نہیں ہے اس لئے وہ کسی قیمت پر بھی اپنی بیٹی کو اس کے ساتھ رخصت کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے اور وہ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا۔بار بار خط لکھتا تھا، پیغام بھیجتا تھا۔کہتا تھا میں تو ایسا آپ کی بیٹی پر عاشق ہوں کہ اس کے بغیر میری زندگی نہیں گزر سکتی، میں تو ختم ہو جاؤں گا اس لئے مجھ پر رحم کریں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک صاحب حکمت بزرگ تھے۔وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔اس کو شکل سے پیار ہے اس کو عادتوں یا مزاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ انہوں نے آخر تنگ آکر اس کو دو یا تین ہفتے کا کہا کہ اچھا تم اس عرصے میں آکر اپنی بیوی کو ساتھ لے جانا، میں تیار ہوں۔خیر وہ بہت خوش ہوا اور دو تین ہفتے کے بعد جب وہ آیا تو اس نے دیکھا کہ وہی لڑکی سوکھ کر کانٹا ہوئی ہوئی اور اس کے