خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 657
خطبات طاہر جلد ۱۰ 657 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ میں میں بیماریوں کو بھی داخل کرتا ہوں کیونکہ خدا کی خاطر جہاں نیک نیتی کے ساتھ قول سدید سے کام لیا گیا ہے وہاں ایک مریضہ کی بیماری بھی اس میں داخل ہوگئی ہے، ایک مریض کی بیماری بھی اس میں داخل ہوگئی ہے تو میرے نزدیک اصلاح کا یہ وعدہ تو صرف ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ بیماریوں اور ہر قسم کے اور عوارض سے بھی ہے۔پس میں سب احمدی گھرانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ شادی کے وقت وہ ہر گز اس لالچ میں کہ کہیں یہ دیکھنے والا بھاگ نہ جائے اپنی بیٹی یا اپنے بیٹے کے عیوب کو چھپائیں نہیں بلکہ خود بتائیں کہ یہ کمزوریاں ہیں۔اس کے بعد اگر کوئی قبول کرتا ہے تو بسم اللہ اور اسکے بعد قبول کرنے والا پھر خود کم سے کم اتنی عقل تو رکھتا ہوگا کہ اس چیز پر کسی کو طعنے نہ دے۔عام طور پر بیماریاں اور تکلیفیں جاننے کے بعد پھر جو قبول کرتے ہیں وہ بڑے حو صلے والے لوگ ہوتے ہیں اور خدا کے فضل کے ساتھ ان کو حسن سلوک کی بھی توفیق ملتی ہے۔چنانچہ میرے علم میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بیماریاں دیکھیں، ان کو پتہ تھا کہ جو بہو گھر میں آنے والی ہے وہ کس کس عارضے میں مبتلا رہی ہے یا مبتلا ہے۔اس کے باوجود بعضوں نے خود مجھ سے ذکر کیا کہ ہماری بیٹیاں نہیں بیمار ہوتیں۔یہ اللہ کی مرضی ہے جس کو چاہے بیمار بنادے جس کو چاہے شفا عطا کرے تو بچی اچھی ہے۔نیک فطرت ہے۔ہمیں منظور ہے اور آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ خدا کے فضل سے خدا تعالیٰ کے ایسے نیک اور پارسا بندے بھی موجود ہیں جو تقویٰ کی بناء پر بیاہ شادی کے فیصلے کرتے ہیں۔پھر جہاں تک دولہا اور دلہن کی نیتوں کا تعلق ہے اس میں بہت سے فتور واقع ہو جاتے ہیں جبکہ بہت سی ایسی نیتیں بھی ہیں جو پاک اور شفاف رہتی ہیں۔بعض دولہا شکلوں کے پیچھے مرتے پھرتے ہیں کہ شکل ہوئی تو ٹھیک ہے۔پھر ہماری زندگی جنت بنے گی حالانکہ ان کو پتہ نہیں کہ شکلیں تو صرف لباس ہیں۔بعض لباسوں میں نہایت منحوس لوگ قید ہوئے ہوتے ہیں۔بعض خوبصورت شکلوں کے اندر ڈائنیں بستی ہیں اور اس کے برعکس بعض بدزیب پنجروں میں بند بڑے بڑے خوبصورت پرندے دیکھے گئے ہیں تو حقیقت میں دین ہی ہے جس کو فیصلے میں سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہئے اور حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ نے لفظ دین رکھا ہے جو ایک بہت ہی وسیع لفظ ہے۔دین میں صرف مذہب شامل نہیں بلکہ مزاج ، عادات ، طرز زندگی وغیرہ سب کچھ دین کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔پس ایسا کفوڈ ھونڈنا چاہئے جس میں ایک اچھے مزاج کی نیک فطرت ، پاک فطرت عورت ہو یا اسی طرح