خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد ۱۰ 656 خطبه جمعه ۹/اگست ۱۹۹۱ء نقائص پر پردے ڈالنے والا جانور ہے۔اس پہلو سے اگر وہ اپنی کمزوریوں کو چھپالیتا ہے یا سمجھتا ہے کہ چھپی ہوئی ہیں تو اُسے اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوگی جیسا کہ میں نے مریض کا بتایا ہے میں اس کے لئے دوائی تجویز کر رہاتھا لیکن اس نے کہا کہ جی ! کوئی فرق نہیں پڑتا یہ کپڑوں کے نیچے ہی ہے کوئی فرق نہیں پڑتا ہاں اگر چہرے پر ایک چھوٹا سا داغ بھی آجاتا تو وہ کئی ڈاکٹروں کے گھر پھرتا اور دیکھتا کہ شاید کہیں سے کوئی علاج مل جائے۔تو اس لئے اصلاح کے لئے اپنی بیماری کا احساس بھی ضروری ہے کہ اب اس بیماری کا دوسروں کو بھی پتہ لگ رہا ہے یا پتہ لگنے والا ہے اور یہ واقعہ بیاہ شادی کے وقت ضرور ہوتا ہے۔اگر کوئی انسان تقویٰ سے کام لینے والا ہو اور اس کی نیت میں یہ بات داخل ہو کہ وہ تین آیات جو اس نکاح کے موقع پر پڑھی گئی تھیں میں ان کا حق ادا کروں گا ورنہ وہ گویا میرے نکاح پر پڑھی ہی نہیں گئیں۔اگر ان آیات کو سننے کے بعد ان کا حق ہی ادا نہیں کیا تو کسی کی بلا سے چاہے اس کے نکاح پر پڑھی ہوں یا کسی اور کے نکاح پر پڑھی گئی ہوں اس کے نکاح سے تو ان آیات کا تعلق باقی نہیں رہے گا اور بیروہ مرکزی آیت ہے جس کا ہر شخص کے نکاح سے گہرا تعلق ہے اور اس کی آئندہ زندگی سے گہرا تعلق ہے۔پس قول سدید سے کام لینے والوں کے لئے پہلی منزل بہت مشکل ہے۔بیاہ میں دلچسپی رکھنے والے ماں باپ جن کی بیٹیاں بڑی ہو رہی ہوں وہ جانتے ہیں کہ کتنا مشکل کام ہے۔جب دیکھنے والا آتا ہے اور مختلف حالات کا جائزہ لیتا ہے تو اس وقت ساتھ یہ بتا دینا کہ جی ! میری بیٹی کو یہ بیماری بھی ہے کتنے ماں باپ ہیں جن میں یہ ہمت ہے۔پس یہ بہت ہی تلخ قدم ہے جو ان کو اٹھانا پڑتا ہے لیکن متقی ضرور اٹھائے گا اور جو تقویٰ کی بنا پر یہ قدم اٹھاتا ہے خدا اس کا خود کفیل ہو جایا کرتا ہے۔اس بات کو لوگ بھلا دیتے ہیں۔نصیحۂ پہلا قدم تو تلخ نہیں اٹھاتے لیکن اس کے بعد زندگی کے ہر قدم کو تلخ بنا دیتے ہیں۔اس بیٹی کا پھر ہر سفر مصیبتوں اور اذیتوں کا سفر بن جاتا ہے۔بار بار ہر طرف سے اس کو طعنے ملتے ہیں کہ تم وہی ہو جس کو یہ دورے پڑتے ہیں تمہیں اس قسم کی بیماریاں ہیں تم تو دھوکے کے ساتھ ہمارے گھر پر پھینک دی گئی ہو۔ہم تو کبھی تمہارے منہ کی طرف بھی نہ دیکھتے اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ تم اس بیاری میں مبتلا ہو لیکن جو شخص خدا پر تو کل کرتے ہوئے ، یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر خصوصیت کے ساتھ قول سدید سے کام لینا ہے۔قول سدید سے کام لینے کی نیت کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ