خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 62

خطبات طاہر جلد ۱۰ 62 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء اسلام پر گزشتہ کئی صدیوں سے یہ بالعموم تاثر ہے، یہ ایک ایسا مہم سا تاثر ہے جس کی معین پہچان ہر شخص نہیں کر سکتا بعض دفعہ مبہم خوف ہوا کرتے ہیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ کہاں سے آ رہا ہے کیوں ہے لیکن ایک انسان خوف محسوس کرتا ہے۔بعض دفعہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔لیکن اس کی وجہ نہیں سمجھ رہا ہوتا۔تو انسانی تعلقات میں بعض دفعہ بعض تاثرات انسان کی طبیعت میں گہرے رچ جاتے ہیں، گہرے اثر پذیر ہو جاتے ہیں اور ان تاثرات کی وجہ ایک لمبی تاریخ پر پھیلی ہوتی ہے۔مغرب نے مسلمانوں سے گزشتہ کئی سوسال میں جو سلوک کیا ہے اس سلوک کی تاریخ مسلمانوں کو یہ یقین دلا چکی ہے کہ ان کی مسلمانوں سے نفرت مذہبی بنا پر ہے اور اسلام کا نام خواہ یہ لیں یا نہ لیں لیکن مسلمان قوموں کی ترقی یہ دیکھ نہیں سکتے اور مسلمان قوموں کے آگے بڑھنے کے خوف سے یہ ہمیشہ ایسے اقدام کرتے ہیں کہ جس سے ان کی طاقت پارہ پارہ ہو جائے۔یہ گہرا تا ثر ہے جو مسلمان عوام الناس کے دل میں موجود ہے خواہ انہوں نے کبھی تاریخ پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو۔تاریخ کے بعض تأثرات انسانی سوچ اور انسانی جذبات میں اس طرح شامل ہو جاتے ہیں جیسے کسی پانی کی رو میں کوئی چیز ملادی گئی ہو۔وہ ہاتھ نہ دیکھا ہو کسی نے جس نے وہ چیز ملائی ہے لیکن پانی کے چکھنے سے اس چیز کا اثر معلوم کیا جا سکتا ہے۔پس عامتہ المسلمین دل میں یہ یقین رکھتے ہیں اور اس لمبے تاریخی تجربے کے نتیجے میں یہ یقین ان کے دل میں جاگزیں ہو چکا ہے کہ یہ قومیں ہر مشکل کے وقت ہماری مخالفت کریں گی اور ایسے اقدامات کریں گی جس سے عالم اسلام کو نقصان پہنچے۔اس تاثر کو حالیہ اختلاف کے دوران بھی اور اس سے پہلے بھی سب سے زیادہ تقویت امریکہ کے سلوک نے دی ہے یعنی اس تاثر کو تقویت دینے کا بڑا ذ مہ دار امریکہ ہے۔مثلاً اسرائیل کا مسلمان علاقے میں قیام۔امریکہ کی طاقت استعمال ہوئی ہے اس لئے وہ اس کا بڑا ذمہ دار ہے لیکن یہ شوشہ برطانیہ نے چھوڑا تھا اور برطانیہ کے دماغ کی پیداوار ہے۔جب بھی لڑائیاں ہوتی ہیں اس وقت کچھ مخفی معاہدے کر لئے جاتے ہیں بعض لوگوں کے ساتھ اور یہود سے اس زمانے میں برطانیہ نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہم تمہیں عربوں کے دل میں جگہ عطا کریں گے جہاں تمہارا ایک آزاد ملک قائم کیا جائے گا اور داؤد کی حکومت کے نام پر پھر تم وہاں بیٹھ کر تمام عرب پر بھی اثر انداز ہو گے اور تمام دنیا پر بھی اثر انداز ہو گے۔ان الفاظ میں یہ معاہدہ نہیں ہوا ہوگا یقیناً نہیں ہوا مگر اس معاہدے کے وقت یہود کو یہی پیغام مل رہا تھا کیونکہ یہ ان کی خواب تھی جو