خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد ۱۰ 655 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء طرف کے لوگ اس نیت سے جاتے ہیں کہ دوسرے کی کرید کریں اور دونوں طرف کے لوگ اس نیت سے جاتے ہیں کہ وہ اپنی کرید نہ ہونے دیں۔اب یہ قول سدید تو در کنار ٹیٹر ھے چلنے کی بد تیرین صورت ہے۔لڑکے والے کی رشتہ دار مائیں بہنیں وغیرہ اس نیت سے سفر کرتی ہیں کہ لڑکی کے اندر کوئی پرانی مرض بھی کبھی پیدا ہوئی ہو، کبھی بچپن میں آنکھوں کا میر ہوا ہو یا کوئی ایسی بات ہو تو وہ بھی ہمارے علم میں آجائے تو ہم سنبھال کر رکھیں اور جب چاہیں ان کو طعنہ دے سکیں اور جہاں تک اپنی طرف کا تعلق ہے اس میں ہر بات پر پردہ ڈالا ہوا ہوتا ہے اور اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے کئے جاتے ہیں۔نہ ادھر قول سدید نہ اُدھر قول سدید اس کے نتیجہ میں کیا ہو گا قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں کھولا۔وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ل يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ تم سیدھی بات کروگے تو اعمال کی اصلاح ہوگی ورنہ اعمال کی اصلاح نہیں ہوسکتی ورنہ فساد بڑھتا چلا جائے گا۔پس اگر دونوں طرف کچھ کمزوریاں بھی ہوں لیکن اگر بات سیدھی کہی جائے اور صاف اور کھلی کھلی بات کہی جائے تو ان کمزوریوں کے دور ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں اور اصلاح کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں اگر کمزوریوں پر پردہ ڈال دیا جائے اور قول سدید سے کام نہ لیا جائے تو اصلاح کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح تو اعتراف کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ایک انسان اپنے کسی نقص کا اعتراف کرتا ہے۔دیکھتا ہے کہ اس میں وہ کمزوری ہے۔اس کے نتیجہ میں اس کے نقص کے اندر شرمندگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اگر وہ اس کمزوری کو دوسروں کے سامنے بھی رکھ دیتا ہے تو نہ صرف مزید شرمندگی کا احساس بلکہ یہ ایک ارادہ دل میں پیدا ہو جاتا ہے کہ میں اس کو دور کرنے کی کوشش کروں اب تو غیر بھی اس کے واقف ہو گئے ہیں۔پس کچھ لوگ اپنے نقائص کچھ عرصے تک چھپائے پھرتے ہیں، کچھ عرصے کے بعد وہ دکھائی دینے لگتے ہیں تو زیادہ سنجیدگی سے ان کو توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔میرے پاس کئی قسم کے جلدی مریض آتے ہیں۔ایک دفعہ ایک برص کا مریض تھا اس نے مجھے کہا کہ جی ! برص تو ہے لیکن کوئی ایسی بات نہیں کپڑوں کے اندر ہی ہے ناں ، چہرے پر نہیں آئی اور اس کے برعکس ایک مریض کے چہرے پر بالکل چھوٹا سا داغ واقع ہوا ہے اور کوئی مرض کا نشان نہیں تھا لیکن اس بیچارے کی زندگی اس فکر میں اجیرن ہو رہی تھی کہ یہ داغ میرے چہرے پر پڑ گیا ہے تو انسان بنیادی طور پر بہت ہی زیادہ نمائش والا جانور ہے اور بہت زیادہ اپنے