خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد ۱۰ 648 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء ہے اور اگر آپ بیرون سے انسانی خیالات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں تو بہت ہی مشکل کام ہے۔اور باہر سے کسی شخص کی نیت تک پہنچنا اگر ممکن بھی ہو تو اس کا حد تک جواز نہیں ہے کہ کوئی انسان اپنے تجزیے کوکسی دوسرے پر ٹھونس سکے۔پس اس مضمون پر غور کرتے ہوئے یہ نقطہ سمجھ آتا ہے کہ یہ سفر ہر شخص کو خود اختیار کرنا ہوگا۔اپنی نیتوں کا خدا کے بعد سب سے زیادہ انسان خود واقف ہوتا ہے۔جب وہ غیروں کے سامنے اپنے ارادے بیان کرتا ہے تو ہمیشہ پیچ و خم کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ہمیشہ ان کو خوبصورت لباس میں ڈھانپ کر پیش کرتا ہے۔شاذ ہی کوئی ایسا انسان ہو جواپنے ارادوں کو مسن وعن اسی طرح کسی کے سامنے رکھ دے ورنہ یہ انسانی فطرت ہے کہ اپنی نیت کو چھپاتا ہے۔جس طرح جڑ کو مٹی سے ڈھانپا جاتا ہے اسی طرح انسان بھی اپنی نیتوں کو جو پہلے ہی اندر چھپی ہوئی ہوتی ہیں مزید مٹی سے ڈھانپنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی کے نتیجے میں دنیا کے تعلقات میں اکثر فتور واقع ہوتے ہیں بلکہ تمام تر فتور کہنا چاہئے ایک بھی انسانی تعلقات میں خلل ایسا نہیں ، ایک بھی انسانی تعلقات کا فساد ایسا نہیں جس کی بنیاد نیت پر نہ ہو اور نیت میں اگر تقویٰ شامل نہ رہے تو پھر جو بھی درخت اس سے پیدا ہوگا جو بھی نشو و نما پائے گا، جو درخت بھی پھل دے گا وہ سارے پھل کڑوے اور گندے ہوں گے۔اس مضمون کو عمومی رنگ میں بیان کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اب انسانی تعلقات کے مختلف چھوٹے چھوٹے دائروں میں اس مضمون کا اطلاق کر کے آپ کو دکھاؤں اور آپ کو بتاؤں کہ کس طرح تقویٰ کے فقدان کے نتیجے میں انسانی تعلقات فسادات کی نظر ہو جاتے ہیں۔آنحضرت نے اس ارشاد میں ایک مثال نکاح کی دی ہے کہ ایک مرد ایک عورت کی نیت لے کر سفر کرتا ہے۔یعنی نیتوں کے سفر میں ایک عورت کی طرف روانہ ہوتا ہے۔وہی عورت اس کا مقصود ہے لیکن یہ مضمون چونکہ بہت ہی گہرا اور وسیع ہے اس لئے اس مثال کو سطحی نہ سمجھیں۔اس مثال کے اندر انسانی تعلقات کے دائرے کا ایک بہت ہی وسیع حصہ زیر بحث لایا گیا ہے۔عورت کی طرف انسانی سفر کیسے ہوتا ہے؟ اور کیا وہ ایک ایسی نیت ہے جو ہر شخص میں مشترک ہوتی ہے یا نیتوں میں فرق ہوتا ہے۔اس مضمون پر اگر آپ غور کریں تو آنحضرت ﷺ کا ایک اور ارشادذہن میں آتا ہے۔جس میں آپ نے فرمایا کہ جب تم شادی کی نیت کرتے ہو تو وہ شادی دنیاوی مناصب اور مرتبوں کی خاطر بھی ہوسکتی ہے، خاندانی منصب اور خاندانی وقار اور وجاہت کی خاطر بھی ہوسکتی ہے، اموال کی خاطر