خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد ۱۰ 61 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ہمارے وطن کا حصہ تھا اور انگریزوں نے اسے کاٹ کر ہم سے جدا کیا تھا اس لئے بنیادی طور پر ہمارا حق بنتا ہے اور کچھ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس یقین پر کہ اس چھوٹے سے ملک کویت کی ہمارے سامنے حیثیت کیا ہے جبکہ ہم اتنی مدت تک آٹھ سال تک ایران سے لڑ چکے ہیں اور ایران کو بھی ایسے ایسے چیلنج دے چکے ہیں جن کے نتیجے میں بعض دفعہ ایران کو یہ خطرات محسوس ہورہے تھے کہ شاید ہمارے وطن کا اس دنیا سے صفایا ہو جائے ۔ بہت دور تک گہرے ایران کے اندر عراق کی فوجیں داخل ہو چکی تھیں۔ بعد میں ان کو دھکیل کر واپس کیا گیا ۔ پھر جس طرح تکڑی کے تول ہوا کرتے ہیں بعض دفعہ ایک طرف سے ڈنڈی ماری جاتی تھی ، بعض دفعہ ویسے ہی ایک فریق کا وزن بڑھ جاتا تھا تو یہ اونچ نیچ ہوتا رہا مگر ایران کے مقابل پر کویت کی کیا حیثیت تھی ۔ پس ہو سکتا ہے یہ خیال بھی عراق کے لئے شہہ دلانے کا موجب بنا ہو کہ یہ کویت ، چھوٹا سا ملک اسے تو ہم آناً فاناً تباہ کر دیں گے۔ اور اس وجہ سے انہوں نے قبضہ کر لیا ہو، بہر حال قبضے کی کیا وجوہات تھیں؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ در حقیقت حق کس طرف ہے؟ اور اگر حق تھا بھی تو حق لینے کا یہ طریق جائز بھی ہے یا نہیں؟ یہ سارے سوالات تھے جن پر غور ہونا چاہئے تھا اور عالم اسلام کو مشترکہ طور پر ان پر غور کرنا چاہئے تھا۔ اس لئے نہ اس لڑائی کو جہاد کہا جاسکتا ہے جو کویت پر حملے کی صورت میں پیدا ہوئی ۔ نہ اس لڑائی کو جہاد کہا جا سکتا ہے جو اس کے رد عمل کے طور پر بعد میں عراق کے خلاف لڑی جارہی ہے۔ پس خواہ مخواہ جاہلانہ طور پر اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو بے محل استعمال کر کے مسلمان اسلام کی مزید بدنامی کا موجب بنتے ہیں ۔ ساری دنیا میں اسلام سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور قو میں تمسخر کرتی ہیں اور یہ اپنی بے وقوفی میں سمجھتے ہی نہیں کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں لیکن عوام الناس کے متعلق یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کیوں آخر بار بار اپنے راہنماؤں کے اس دھو کے میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور غیر معمولی قربانیاں ان جنگوں میں پیش کرتے ہیں جو در حقیقت جہاد نہیں ۔ لیکن انہیں جہاد قرار دیا جا رہا ہے۔ کوئی گہری اس کی وجہ ہے اس کے اندر در حقیقت کوئی راز ہے جس کو معلوم کرنا چاہئے اور اگر ہم اس راز کو سمجھ جائیں تو یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ مغربی قو میں جہاد کے اس غلط استعمال کی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں اور وہ جو تمسخر کرتی ہیں اور اسلام پر ٹھٹھا کرتی ہیں اگر اس صورتحال کا صحیح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خود بہت حد تک جہاد کے اس غلط استعمال کی ذمہ دار ہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عالم ۔