خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 642
خطبات طاہر جلد ۱۰ 642 خطبه جمعه ۲/اگست ۱۹۹۱ء مغلوب ہو جایا کرتے تھے اور دو باتیں ہمیشہ کہا کرتے تھے ایک تو یہ کہ میری خدمت کوئی چیز نہیں ، یہ آپ کی دعاؤں کا پھل ہے اور پھر تکرار سے کہا کرتے تھے کہ میں تکلفاً نہیں کہہ رہا میں دل کے پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ محض دعاؤں کا پھل ہے، میری کوئی حیثیت نہیں ہے دوسرے یہ دُعا یاد کرایا کرتے تھے کہ میرے لئے ہمیشہ یہ دعا کریں کہ چلتے پھرتے آخری سانس تک خدمت میں میری جان جائے۔ایسا ہی ہوا اور یہ جلسہ جو بہت ہی کامیاب گزرا ہے، آپ نے دیکھا کہ کس طرح ان کو سخت بیماری کی حالت میں بھی چلتے پھرتے خدمت دین کی توفیق ملتی رہی۔صبح جب میری بیگم کو پتہ چلا کہ بنگوی صاحب وفات پاگئے ہیں تو کہتی ہیں کہ رات بڑی دیر تک نیچے سے میں ان کی آواز میں سنتی رہی۔یہ آکر مہمانوں کے لئے ہدائتیں دے رہے تھے اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی کراری اور بلند آواز والا شخص جو اس طرح رات گئے بہت دیر تک مہمانوں کی خدمت میں مصروف ہے، صبح اچانک رخصت ہو جائے گا مگر بہر حال یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ۱۹۸۵ء سے لے کر اب تک ، جب میں نے انہیں افسر جلسہ مقرر کیا تھا، یہ نہایت ہی عمدگی اور کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض کو سرانجام دیتے رہے اور یہ ساری زندگی گویا Lease پر تھی یعنی ڈاکٹروں نے تو جواب دیا ہوا تھا لیکن خدمت دین کا جذبہ انہیں لئے پھرتا تھا اور اللہ نے اس جذ بے کو قبول فرمایا اور زندگی کا ایک نیا دور عطا فر مایا۔پس اگر چہ جدائی انسان کو ضرور دکھ پہنچاتی ہے لیکن بعض جدائیاں دُکھ کے ساتھ بعض خوشی کے جذبات بھی رکھتی ہیں۔ان کی جدائی کی بھی یہی کیفیت ہے۔جیسے کوئی شخص کامیاب دورے کے بعد رخصت ہو رہا ہو تو لوگ دل کے بڑے گہرے غم کے ساتھ اس کو رخصت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی صمیم قلب کے ساتھ مبارکبادیں بھی پیش کرتے ہیں۔پس میں اس جانے والے کو اسی جذبے کے ساتھ رخصت کرتا ہوں کہ اے جانے والے! ہم بہت مغموم ہیں۔ہمارا دل تیرے صدمے سے گھائل ہو گیا ہے لیکن ہم صمیم قلب کے ساتھ تجھے مبارکباد پیش کرتے ہیں تو نے ایک کامیاب بندے کی زندگی گزاری اور ایک کامیاب احمدی کی حالت میں آخری سانس تک زندہ رہا اور اسی حالت میں جان جان آفریں کے سپرد کی۔اللہ بے شمار رحمتیں ان پر نازل فرمائے اور اس ٹیم کو انہی نیکیوں پر قائم رکھے جس ٹیم کو انہوں نے بڑی محنت اور خلوص اور دعاؤں کے ساتھ تیار کیا ہے۔ان کا نعم البدل ہمیں عطا کرے۔ان کی اولاد کو تو فیق