خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد ۱۰ 641 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۹۱ء ملتی ہے اور ایک نہیں، دو نہیں، آج کل تو خدا کے فضل سے ہزاروں ہیں جو اسی قسم کی زندگی گزارتے ہیں۔بنگوی صاحب کے متعلق جو چند کلمات میں خصوصیت سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ آپ طبعاً خدمت کرنے والے انسان تھے۔صرف جماعت کی ہی خدمت نہیں بلکہ اپنی سروس کے دوران جو اکثر فارن آفس میں رہی اور اس کے تعلق میں دنیا کی مختلف Embassies ایمبیسیز میں آپ مقرر ہوتے رہے۔آپ نے اس طرح بے لوث ہر ایک کی خدمت کی ہے کہ وہ غیر احمدی ، افسر ہوں یا ما تحت یا ساتھی جنہوں نے آپ کے ساتھ کسی جگہ وقت گزارا ہے ہمیشہ آپ کو بڑی محبت سے یاد کرتے ہیں اور مجھے امریکہ سے کچھ عرصہ پہلے بنگوی صاحب کے ایک دوست کا خط ملا تھا اس میں اس نے بتایا کہ یہ ایسا وجود ہے جو بھلانے کے لائق نہیں ہے۔بہت ہی خدمت کرنے والا اور بہت ہی احسان کرنے والا وجود ہے۔پس اس دور میں جور بوہ سے آنے کے بعد کا دور ہے اور جسے میں ہجرت کا دور کہہ رہا ہوں ، جبکہ میں پاکستان سے آکر انگلستان میں عارضی طور پر آباد ہوا تو آتے ہی میں نے سب سے پہلے یہ صدائے عام دی کہ مَنْ اَنْصَارِی اِلی الله (الصف: ۱۵) کون ہے جو اللہ کی خاطر، اللہ کے نام پر میری نصرت کرنے والا بنے گا تو وہ اولین آوازیں جنہوں نے لبیک کہا ان میں ہدایت اللہ صاحب بنگوی کی آواز بھی تھی اور اس آواز میں ایسا خلوص تھا، ایسی سچائی تھی کہ اس کے بعد میں نے ان کو ہمہ وقت خدمت دین میں مگن دیکھا اور سخت بیماری کی حالت میں بھی اس بیماری کو چھپا کر کہ مجھے خدمت سے روک نہ دیا جائے آپ خدمت میں ہمیشہ مگن رہے اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ ان آوازوں میں سے یہ آواز یقینا کچی آواز تھی صدق دل سے اٹھائی گئی آواز تھی۔چنانچہ ساری زندگی جو آپ نے بعد میں میرے ساتھ گزاری وہ زندگی اس بات کا نمونہ تھی کہ آپ واقعی اللہ کے انصار میں داخل ہو گئے تھے۔فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب :۲۴) ان لوگوں میں سے اور بھی بہت سے ہیں جنہوں نے اپنی نیتوں کو پورا کر دیا اور بعض ایسے ہیں جو نیتیں پوری کر کے خدا کے حضور حاضر ہو گئے اور بعض ایسے ہیں جو ا بھی انتظار کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس وجود کو غریق رحمت فرمائے۔آخر سانس تک خدمت میں وقت گزارا۔ہر جلسہ کے بعد جب میں اُن کو مبارک باد دیتا رہا کہ آپ نے بہت ہی عمدہ خدمت کی ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے تو ہمیشہ جذبات سے