خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد ۱۰ 636 خطبه جمعه ۲/اگست ۱۹۹۱ء مطلب نہیں ہے کہ جب ہم سلام بھیجتے ہیں تو جیسا کہ بعض مسلمان یقین کرتے ہیں آنحضرت مے ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں گویا ہر نماز پڑھنے والے کی نماز کے سامنے اس موقعہ پر وہ آکھڑے ہوں گے۔یہ محض ایک جاہلانہ بات ہے۔اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ خیال بھی شرک ہے۔پس جب بھی آپ السلام عليك ايها البنی کہتے ہیں تو عزت اور احترام کے لئے خطاب کر رہے ہیں ورنہ حقیقت میں سامنے رکھ کر خطاب نہیں کر رہے۔دوسری بات السلام علينا و علی عبادالله الصالحین ہے۔یعنی ہم سب پر بھی سلام ہو اور مخاطب کے متعلق متکلم کا صیغہ آیا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے بھی التحیات کے اندر ایک حُسن بلاغت پایا جاتا ہے۔غائب میں خدا کی بات ہوئی ، پھر مخاطب میں حضرت محمد رسول اللہ کی بات ہوئی۔اس کے بعد ہم متکلم میں داخل ہو گئے اور اپنے ساتھ تمام مومنین کو شامل کر لیا خواہ وہ موجود ہوں یا نہ ہوں اس لئے اس مضمون میں موجودگی کی کوئی بحث نہیں ہے۔صرف ایک درجہ بدرجہ مرتبے کی گفتگو ہورہی ہے اور ایک حسن کلام ہے جو اس شان کے ساتھ اپنے پہلو بدل رہا ہے۔وعلی عباد الله الصالحین پھر تمام صالح بندوں پر سلامتی بھیجی گئی۔اس مضمون پر جا کر سورۃ فاتحہ سے ہم نے جو مضامین سیکھے تھے وہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور خدا تعالیٰ کی حمد کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مدح کی اور اپنے لئے اور تمام مومنین کے لئے ہر قسم کی دعائیں ہم نے اس میں مانگیں۔اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلقات قائم کئے اب اس کے بعد یہ سوال ہے کہ اشهد ان لا اله الا اللہ کا کیا موقعہ ہے اور اس مقام پر اسے کیوں سجایا گیا ہے؟ میں نے جہاں تک غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ کلمه لا اله الالله در حقیقت سورہ فاتحہ میں موجود ہے اور محمد رسول اللہ بھی سورہ فاتحہ میں موجود ہے اور یہ مضمون سورۂ فاتحہ ہی کا ہے جو یہاں آکر کامل ہوتا ہے اور ہمیں ایک نئی طرز پر بتایا جارہا ہے۔جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہتے ہیں تو یہاں صرف معبود کے طور پر خدا کا اقرار ہی نہیں کرتے بلکہ ایاک کہہ کر ساتھ غیب کی نفی بھی کر رہے ہیں تو حقیقت میں لا الہ الا اللہ کا مضمون إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بہت شان کے ساتھ گویا مختلف لفظوں میں بیان ہو جاتا ہے۔اس کے بعد جب ہم اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون میں داخل ہوتے ہیں تو سب سے بڑا نبی جس پر سب سے زیادہ انعاموں کی بارش کی گئی وہ حضرت محمد مصطفی امی یہ ہی تھے۔اس لئے