خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 60
خطبات طاہر جلد ۱۰ 60 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے اور جہاد کی اس سے زیادہ خوبصورت اور کامل تعریف ممکن نہیں ہے۔اس تعریف کو اگر ہم موجودہ صورتحال پر اطلاق کر کے دیکھیں تو ہرگز اسلامی معنوں میں یہ جہاد نہیں ہے۔ایک سیاسی لڑائی ہے اور ہر سیاسی لڑائی خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے مخالف کے درمیان ہو یا مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو وہ جہاد نہیں بن جایا کرتی۔در حقیقت بعض لوگ حق کی لڑائی کو جہاد سمجھ لیتے ہیں اور چونکہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں اس لئے وہ اعلان کر دیتا ہے کہ یہ لڑائی خدا کے نام پر ہے ، سچائی کی خاطر ہے ، اس لئے جہاد ہے۔یہ جہاد کی ایک ثانوی تعریف تو ہوگی مگر اسلامی اصطلاح میں جس کو جہاد کہا جاتا ہے اس کی تعریف اس صورتحال پر صادق نہیں آتی۔کیونکہ یہ تعریف بنیادی منطق کے خلاف ہے کہ دونوں فریق میں سے جو حق پر ہو اس کی لڑائی قرآنی اصطلاح میں جہاد بن جائے گی۔مشرکوں کی مشرکوں سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔ملکوں کی ملکوں سے، کالوں کی گوروں سے ، ہر قسم کی لڑائیاں دنیا میں ہو رہی ہیں ، ہوتی چلی آئی ہیں ، ہوتی رہیں گی اور جب بھی دوفریق متصادم ہوں تو ظاہر بات ہے کہ اگر ایک فریق سو فیصدی حق پر نہیں تو کم سے کم زیادہ تر حق پر ضرور ہوگا اور یہ تو ممکن نہیں ہے، شاید ہی کوئی بعید کی بات ہو کہ کبھی دونوں کا برابر قصور ہو کہ دونوں برابر بچے ہوں۔بالعموم ایک فریق مظلوم ہوتا ہے اور ایک ظالم ہوتا ہے۔پس ہر مظلوم کی لڑائی کو جہاد نہیں کہا جاتا۔اُس مظلوم کی لڑائی کو جہاد کہا جاتا ہے جسے خدا کا نام لینے سے روکا جارہا ہو جس پر مذہبی تشدد کیا جا رہا ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے۔انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا الله (الحج: (۴) سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے۔پس اگر کوئی لڑائی محض اس وجہ سے کسی پر ٹھونسی جارہی ہو اور فریق مخالف پہل کر چکا ہو اور تلوار اس نے اٹھائی ہو نہ کہ مسلمانوں نے اور مسلمانوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب قرار دیتے ہوں اور غیر اللہ کو رب تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوں تو پھر اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔پس محض حق کی لڑائی کا نام جہاد نہیں بلکہ ان معنوں میں جن کی لڑائی کا نام جہاد ہے۔پس یہ صورتحال تو عراق اور باقی قوموں کی لڑائی پر چسپاں نہیں ہورہی۔کویت نے کسی وجہ سے عراق کو ناراض کیا اور عراق نے اس ناراضگی کے نتیجے میں اور اس یقین کے نتیجے میں کہ کبھی یہ چھوٹا سا ملک