خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد ۱۰ 633 خطبه جمعه ۲/اگست ۱۹۹۱ء مجھے زیادہ مل جائے گا بلکہ یہ خیال کہ خدا کی راہ میں جو دینا چاہئے اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور تحفہ پیش کرنے کو دل چاہتا ہے اور تحفے کے مقابل پر اگر کوئی واپسی کی بات کرے تو اس سے بھی انسان شرم سے کٹ جاتا ہے تو اس نیت سے خدا کے حضور میں پیش کرنا چاہیے کہ میں دے رہا ہوں اور شرم کے ساتھ دے رہا ہوں کہ جتنی توفیق ہے اس کے مطابق دے رہا ہوں ورنہ حق یہ تھا کہ اس سے بہت زیادہ دیا جاتا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلے اور دنیا میں فورا واپس نہ کرے تو یہ خیال دماغ میں پیدا ہو جانا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ چندے میں بڑی برکت پڑتی ہے لیکن ہمیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا، بہت ہی گھٹیا اور کمینی بات ہوگی اور یہ تحفہ نہیں رہے گا اور چونکہ تحفہ نہیں رہے گا اس لئے قبول بھی نہیں ہوگا کیونکہ التحیات نے ہمیں بتایا ہے کہ تحفے ہی ہیں جو قبول ہوں گے، باقی چیزیں نہیں ہوں گی۔اگر تحفہ پیش کرتے ہو تو منظور ہے۔تحفہ نہیں تو پھر تم اپنے کام سے کام رکھو خدا اپنے کام۔ނ کام رکھتا ہے۔تمہارے ساتھ ان قربانیوں کے نتیجے میں خدا سے تمہارا تعلق قائم نہیں ہوگا۔دوسری بات التحیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روزانہ ہم خدا کے حضور پانچ وقت جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ التحيات لله والصلواتُ والطَّيِّبات تو کوئی انسان پہلے تھے تو دوبارہ نہیں دیا کرتا۔آخر ہم پانچ وقت کی ہر نماز میں بعض دفعہ ایک سے زیادہ دفعہ جب خدا کے حضور یہی بات پیش کرتے ہیں کہ التحيات لله والصلوات والطيبات تو اس کا یہ مطلب تو بہر حال نہیں ہوسکتا کہ ہم نے ایک دفعہ جو نیکیاں کردیں، ایک دفعہ جو قربانیاں خدا کے حضور پیش کیں انہی کو بار بار تحفہ بنا کر دے رہے ہیں کیونکہ دنیاوی تعلقات میں تو انسان ایسا نہیں کرتا۔اگر ایسا کرے تو بہت ہی پاگل اور احمق دکھائی دے گا۔پس نماز پانچ وقت یہ پیغام دیتی ہے کہ دو نمازوں کے دوران تم نے کوئی نیکی کی ہے کہ نہیں۔اگر دو نمازوں کے دوران کوئی اچھا نیک قول بھی تم نے کہا ہے تو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق اور قرآن کے ارشاد کے مطابق وہ بھی ایک ہدیہ ہے ، ایک تحفہ ہے، ایک اچھا نیک عمل ہے۔خواہ قول بھی اچھا ہوتو وہ بھی نیک اعمال میں شمار ہو جاتا ہے۔پس اگر اس عرصے میں کوئی اور نیک عمل کرنے کی توفیق نہیں ملی تو ذکر الہی کی توفیق ملی ہوگی کسی کو نیک نصیحت کرنے کی توفیق ملی ہوگی غیر کونہیں تو اپنی بیوی کو، اپنے بچوں کو، اپنے ساتھیوں کو کوئی اچھی بات کہنے کی توفیق ملی ہوگی اس تمام عرصے میں جو دو نمازوں کے درمیان آپ پر گزرتا ہے کچھ نہ کچھ تحفہ آپ نے ضرور بنانا ہے