خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد ۱۰ 632 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۹۱ء بس التحیات نے ہمیں بتا دیا کہ جو کچھ تم خدا کے حضور پیش کرتے ہو اس نیت سے پیش کیا کرو کہ اس کے بدلے جزاء ملے اور جزاء رضا کی جزاء ہو نہ کہ دنیاوی جزاء۔اس نیت سے تحفے کا مضمون سمجھنے کے بعد ہماری تمام قربانیوں پر ایک غیر معمولی اثر پڑے گا چنانچہ نماز نے ہمیں صرف مالی قربانیوں سے متعلق ہی نہیں سمجھایا بلکہ بدنی قربانیوں سے متعلق بھی یہی سمجھایا ہے۔فرمایا التحيات لله والصلوات والطیبات - الصلوات سے بدنی قربانی مراد ہے اور الطیبات سے وہ پاکیزہ چیزیں مراد ہیں جو قولی ہوں یا فعلی ہوں یا جنس سے تعلق رکھتی ہوں اور جو ہم خدا کے حضور پیش کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے انسان کے خدا سے تمام تعلقات تحفہ پیش کرنے کے تعلقات ہو جاتے ہیں۔جو شخص تحفہ قبول کرتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو انسان کسی بڑے انسان سے تحفہ لیتا ہے جبکہ اس کے مقابل پر وہ مالی لحاظ سے بھی اور دوسرے لحاظ سے بھی ادنیٰ ہوتا ہے۔ایسا شخص دل میں خواہش تو بہت رکھتا ہے کہ میں کسی طرح بڑھا چڑھا کر پیش کروں لیکن اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتا اس لئے اگر وہ شخص جس کے حضور وہ تحفہ پیش کرنا چاہے حقیقتا معزز ہو اور دل کا کریم ہو تو وہ اس کے ادنی کو بھی بہت بڑھا کر قبول کرتا ہے۔اس کے سوا اس غریب کے دل کی تمنا پوری ہونے کی کوئی صورت باقی نہیں ہوتی گویا اس کے دل کی تمنا بھی کسی بڑے انسان کے کرم پر منحصر ہے۔پس اس پہلو سے جہاں تک خدا کو تحفہ دینے کا تعلق ہے وہ تو یہی رشتہ بنتا ہے۔ایک ایسے وجود کو تحفہ پیش کیا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے بالا ہے اور اسے ضرورت نہیں ہے۔ہم اُس کو تحفہ پیش کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے لیکن جب وہ قبول کرتا ہے تو کرم کے نتیجے میں اس رنگ میں قبول کرتا ہے جیسے تم نے بہت بڑا کام کیا ہے اور چونکہ وہ زیادہ دینے کی استطاعت رکھتا ہے اس لئے وہ از خود زیادہ دیتا ہے ورنہ پیش کرنے والے کوتو اپنی غربت اور کم مائیگی کا احساس تھا۔وہ تو اس شرم سے پیش کر رہا ہے کہ میں جو پیش کر رہا ہوں اس لائق نہیں کہ میں یہ پیش کر سکوں کیونکہ میرا محبوب اتنا بڑا ہے کہ میری طرف سے کچھ بھی پیش کیا جائے تو وہ چیز اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ اس کے حضور پیش کی جائے۔پس اس کے بعد اس کے دماغ میں یہ خیال آنا کہ جتنا میں دوں گا اس سے بڑھا کر وہ مجھے دے دے گا کتنی کمینی بات ہوگی کتنی گھٹیا بات ہو جائے گی اور تھنے کے مزاج بگاڑنے والی بات ہوگی۔پس خدا تعالیٰ سے تعلقات کے وقت یہ سودا پیش نظر نہ رکھا کریں کہ ابھی میں نے دیا اور کل