خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد ۱۰ 631 خطبه جمعه ۲ راگست ۱۹۹۱ء التحیات کا پیغام انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہے نماز میں درود شریف پڑھنے کی حکمت اور عارفانہ تشریح (خطبه جمعه فرموده ۲ را گست ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نمازوں کے سلسلے میں جو خطبات دیئے جا رہے ہیں۔آج یہ غالبا اس سلسلے کا آخری خطبہ ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں التحیات پر گفتگو ختم کی تھی لیکن التحیات کا مضمون ابھی جاری تھا۔اس لیے التحیات ہی سے میں اس مضمون کو دوبارہ اُٹھاتا ہوں۔التحیات کا مطلب ہے: تحفے اور تحفوں کا تعلق عام دیگر انسانی لین دین کے معاملات سے بالکل الگ اور ممتاز ہوتا ہے۔اس میں انسان ایک چیز کسی دوست یا کسی بڑے کے حضور اس خاطر پیش کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اسے ویسی کوئی چیز نہ ملے بلکہ اس کی محبت اور رضا حاصل ہو اور یہی تحفے کا مفہوم ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جو بھی مالی قربانیاں خدا کی راہ میں ہم پیش کرتے ہیں ان کے اندر بڑھا کر واپس لینے کا مضمون قربانی کرنے والے کے ذہن میں نہیں آنا چاہئے۔اسی مضمون کو قرآن کریم یوں پیش فرماتا ہے کہ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدثر:۷) کہ تو یہ سوچ کر احسان نہ کیا کر کہ تو بڑھا کر واپس لے گا اس لئے اگر چہ آپ کو بار بار یہ سمجھایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ بڑھا چڑھا کر دیتا ہے لیکن اگر اس نیت سے خدا کے حضور پیش کیا جائے کہ زیادہ ملے گا تو یہ بہت ہی ادنی سودا ہے اور اپنی قربانی کو تھنے کی بجائے ایک عام تجارت بنا دینے والی بات ہے۔خدا سے تجارت کا معاملہ چلتا تو ہے مگر وہاں تجارت کا مفہوم اور ہے۔