خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد ۱۰ 629 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء میں جو لذتیں ہیں وہ ادنیٰ حالتیں ہیں۔اصل اعلیٰ لذتیں جو دائمی لذتیں ہیں جو لطیف تر لذتیں ہیں وہ ہمیشہ دینے کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔آپ اپنے محبوب کو کچھ پیش کریں وہ واپس کر دے تو دیکھیں کیسی تکلیف میں آپ مبتلا ہوں گے اور کچھ دیر کے بعد اگر وہ آپ کو کچھ دیتا ہے تو بعض دفعہ لینے کا مزہ تو ہے لیکن تھوڑا سا دل بجھ جاتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ میں اس کو کچھ اور دوں تا کہ دینے کے لحاظ سے میں بالا رہوں۔حالانکہ یہ دینا ادنیٰ حالت کا دینا ہے لیکن اس میں بھی انسان ایک قسم کی بالائی حالت چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے میں زیادہ دوں اس سے کم لوں۔میں زیادہ تکلیف اٹھاؤں اس کو کم تکلیف پہنچاؤں یہ جولز تیں ہیں یہ انسان کے اندر ایک نیا وجود پیدا کرتی ہیں جس کا خدا سے تعلق قائم ہوسکتا ہے کیونکہ خدا مادی نہیں ہے اور انسانی تعلقات میں اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے اسی لئے رکھا ہے۔میں نے جہاں تک ارتقاء Evolution کا مطالعہ کیا ہے میرے نزدیک Evolution ادنی کیفیت سے اعلیٰ کیفیت کی طرف حرکت کا نام ہے اور یہ جو Evolution میں ہم بدنی تبدیلیاں دیکھتے ہیں یہ ثانوی حیثیت کی تبدیلیاں ہیں۔یہ مضمون بہت وسیع ہے اس کے ایک حصہ پر میں نے ماریشس کی ایک تقریب میں روشنی ڈالی تھی مگر بہت مختصر لیکن سر دست میں اس سے گزرتا ہوں کیونکہ اب وقت بھی کم ہورہا ہے۔باقی مضمون انشاء اللہ پھر بعد میں بیان ہوگا۔بہر حال التحیات کے مضمون میں ہم داخل ہوئے ہیں اور چونکہ آج جلسے کا بھی دن ہے اور بہت سے کام کرنے ہیں اس لئے انشاء اللہ حسب توفیق اگلے جمعہ میں یہ بقیہ مضمون بیان ہو جائے گا اور اس جلسے کے آخر پر سورہ فاتحہ کے بعد جو طبعی اور منطقی نتیجہ نکلتا ہے اس کے تعلق میں میں خطاب کروں گا یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (البقرہ:۷،۶ ) کی دعا اگر قبول ہو جائے تو انعام یافتہ لوگوں میں کیا تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا ظاہری علامتیں ان میں دکھائی دینے لگتی ہیں۔اسی طرح مغضوب جب انعام یافتہ لوگوں سے ٹکراتے ہیں تو ان سے خدا کیا سلوک کیا کرتا ہے۔یہ چونکہ بہت ہی وسیع مضمون ہے۔ایک خطبہ میں یہ بیان ہونے والا نہیں۔کچھ حصہ میں نے گزشتہ عید میں بیان کیا تھا۔بقیہ حصہ اگر پورا نہیں تو اس کا ایک حصہ میں انشاء اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کی آخری تقریر میں بیان کروں گا اور اس کے بعد اب میں نے گھڑی دیکھی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں آج کے خطاب کو ختم کرتا ہوں۔