خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 625

خطبات طاہر جلد ۱۰ 625 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء وقوف لوگ ہیں خدا نے اشرف المخلوقات بنایا اور سیدھا چلنے والا جانور بنایا لیکن اب یہ زمین پر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔ان بے وقوفوں کو علم نہیں ہے کہ ساری بلندیوں کا راز اس بات میں ہے کہ جو سب سے اعلیٰ ہے اس کے سامنے سب سے زیادہ نیچے ہو جاؤ اس تک پہنچنے کا زینہ سب سے زیادہ نیچے جھکنے سے ملتا ہے۔اوپر بلند ہونے سے نہیں ملا کرتا۔پس سبحان ربی الاعلیٰ اس حالت میں کہتے ہیں جب آپ نے اپنے آپ کو کلی خدا کے سامنے عاجز اور نابود کر دیا، انتہائی ذلتیں قبول کر لیں، کچھ بھی اپنا باقی نہ چھوڑا۔جس خدا نے آپ کو سیدھا چلنے والا بنایا تھا آپ اس کے سامنے اس طرح ہو گئے جس طرح دنیا کا ایک عام کیڑا ہوتا ہے۔جس کو اٹھنا نہیں آتا۔ایسی حالت میں آپ یہ دعا کرتے ہیں سبحان ربی الاعلیٰ پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے جو ہر چیز سے بلند تر ہے۔وہ خدا ہے جو پھر آپ کو علو عطا کرتا ہے اور آپ یہ حق رکھتے ہیں کہ میرا رب اعلیٰ ہے کہ سکیں اور جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میرا رب سب سے بلند ہے۔میرا رب اعلیٰ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر بھی وہ علو پیدا ہوگی جو آپ کے رب میں ہے ورنہ وہ آپ کا رب کیسے ہو گیا۔جو آپ کا ہو اس کی کچھ باتیں آپ میں پائی جاتی ہیں اس کا کچھ فیض آپ کے وجود میں نظر آنا چاہئے۔پس ہر وہ شخص جو ربی العظیم کی تکرار سے گزرتا ہے اور سچے دل سے گزرتا ہے اس میں عظمتوں کے نشان پیدا ہونے چاہیں۔ہر وہ شخص جو بار بار خدا کے حضور انتہائی تضرع کے ساتھ سبحان ربی الاعلیٰ کہتا ہے اگر وہ رب واقعی اس کا ہے تو اس کے اندرعلومرتبت کے نشان پیدا ہونے چاہئیں تب وہ خدا کا سفیر بنکر دنیا میں نکل سکتا ہے، تب اس کو دیکھ کر دنیا خدا کی عظمتوں کو محسوس کرتی ہے۔تب اس کو دیکھ کر دنیا خدا کے علو کومحسوس کرتی ہے تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار ہا حضرت رسول اکرم ﷺ کے عشق میں نثر میں بھی اور نظم میں بھی یہ مضمون بیان فرمایا کہ تو خدا تو نہیں ہے لیکن خدا نما ایسا ہے کہ کبھی ایسا خدا نما نہیں دیکھا گیا۔تجھے دیکھا تو خدا کو دیکھ لی یہ شرک کا جملہ نہیں ہے بلکہ عدم شرک کا جملہ ہے۔اس کی گہرائی کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بعض دفعہ لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں محمد مصطفی سے خدا نما اس لئے بنے کہ اپنے وجود کو مٹا دیا۔لا اللہ کے مضمون کو اپنی ذات میں مکمل کر دیا یہ نہیں کہا کہ اے خدا! تیرے سوا اور میرے سوا دنیا میں جتنے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں