خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد ۱۰ 624 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء الاعلى، سبحان ربی الاعلیٰ ، سبحان ربی الاعلیٰ کی تکرار کرتے ہیں۔عظیم اور اعلیٰ میں کیا فرق ہے۔عظیم تو ساری کائنات پر محیط ہے اور عظیم میں آپ سے دوری نہیں آپ سے قرب کا مضمون ہے۔قرب ان معنوں میں کہ آپ اس کی عظمت کے قریب آگئے ہیں۔قریب سے آپ نے جلوہ دیکھا ہے اور اس جلوے سے مرعوب ہو گئے ہیں لیکن علو کے مضمون میں ایسی بلندی ہے کہ آپ محسوس کرتے ہیں کہ قریب آنے کے باوجود آپ اس کے ہمسر نہیں بن سکتے۔وہ بہت بلند تر ہے اور جتنا آپ اس کے قریب جاتے ہیں اتنا ہی اس کی بلندی کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ مضمون بھی حقیقت میں کوہ ہمالیہ کے قرب سے بھی معلوم ہو جاتا ہے اور بلند عمارتوں کے تعلق میں بھی معلوم ہو جاتا ہے۔آپ نے سنا ہوا ہے کہ آئفل ٹاور اتنا اونچا ہے۔ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اتنی اونچی ہے۔ٹورنٹو کا CN ٹاور اتنا اونچا ہے دور سے دیکھیں تو اونچے تو ہیں مگر کوئی خاص اثر دل پر نہیں پڑتا لیکن جب آپ قریب جاتے ہیں۔ان کے دامن میں کھڑے ہو جاتے ہیں تب آپ کو ان کی بلندی کا احساس ہوتا ہے لیکن بعض ایسی بلندیاں ہیں۔وہ آپ کی پہنچ سے بالا ہیں۔فرعون نے ایک دفعہ یہ کوشش کی اور قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ ایسی بلند عمارت بناؤں جس پر چڑھ کر میں خدا کی بلندی کا خود نظارہ تو کروں کہ اگر خدا ہے تو کتنا اونچا ہے اور کہاں ہے۔یہ اس کی ذہنی پستی کا معراج ہے لیکن اس نے ہمیں ایک سبق دیا اور وہ سبق یہ دیا کہ علو کا مضمون ایسا ہے جس کی بنیاد میں آپ کے پاس نہیں ہیں۔وہ بلند تر مقام پر ہے۔جس طرح غالب نے کہا ہے۔منزل ایک بلندی پر اور ہم بنا سکتے عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا (حوالہ۔۔) پس خدا کی بلندی کیلئے عرش سے پرے کے تصورات کی ضرورت ہے اور اس بلندی تک پہنچنے کیلئے فرعونیت نہیں جو جسمانی بلندی کا تقاضا کرتی ہے بلکہ عبودیت چاہئے جو گر نے اور اپنے نفس کومٹادینے کا تقاضا کرتی ہے۔چنانچہ انتہائی انکسار کی حالت میں سب سے اعلیٰ ہے اس کے سامنے سب سے زیادہ بلند مضمون سکھایا گیا۔وہ انسان جو اپنا سر خدا کے حضور زمین سے رگڑ دیتا ہے ، اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دیتا ہے، ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ بعض دفعہ مغربی دنیا کے لوگ جو ان باتوں کو نہیں سمجھتے جب مسلمانوں کو سجدے کی حالت میں دیکھتے ہیں تو وہ تمسخر اڑاتے ہیں کہتے ہیں کیسے بے