خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد ۱۰ 623 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء کو قبول فرماتا ہے جو کچی حمد ہے۔سمع اللہ لمن حمدہ اب خدا یہ کہتا ہے کہ ہاں میں اس حد کوسنتا ہوں اس حمد کرنے والے کی پکار کوسنتا ہوں جو سچے دل سے میری حمد کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں جب آپ ربنا ولك الحمد کہتے ہیں تو یہ تشکر کی حمد ہے۔یہ شکرانے کی حمد ہے۔پہلی حمد جو سورہ فاتحہ کی تھی اس کے قبول ہونے کی خوشخبری رکوع کے بعد آپ کو عطا کی گئی اور اس خوشخبری کے نتیجہ میں اظہار تشکر کے طور پر آپ پھر جھک جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ربنا ولك الحمد حمد اكثيراً طيباً مباركاً فيه ایسی حمد جو نہ ختم ہونے والی ہے بہت بڑی وسیع ہے۔طیباً پاک ہے اس میں کوئی نفس کی ملونی شامل نہیں وہ تیری خاطر ہے اپنی خاطر نہیں مبارکاً فیہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ حمد میں برکتوں سے کیا مراد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو حد واقعی سچی ہو اس میں سے نئی حمد پھوٹتی رہتی ہے اور وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ایک ایسا محبوب جس کی خوبیاں آپ کے ابتدائی تعارف سے زیادہ گہری ہوں جب آپ اس کے قریب جاتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے اندر مزید حسن پاتے ہیں۔اس کے اندر مزید گہرئی پاتے ہیں یہاں تک کہ آپ ہر دفعہ جب اس کے حضور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو پہلے سے بڑھ کر محبت لیکر لوٹتے ہیں۔تھک کر واپس نہیں آتے۔وہ لوگ جن کے محبوب کھو کھلے ہوں اور سطحی ہوں ان کی محبتیں بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں۔زیادہ لمبا عرصہ نہیں چلا کرتیں کیونکہ ان کے محبوبوں میں گہرائی نہیں پائی جاتی۔ان کے حسن میں گہرائی نہیں پائی جاتی اس لئے وہ حمد برکت سے خالی رہتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ مضمون سمجھایا کہ تمہاری بچی حمد وہی ہے جو برکتوں والی حمد ہو جس میں ہمیشہ نشو ونما ہوتی رہے جو بڑھتی چلی جائے اور تمہیں نئے سے نئے حمد کے مضمون سوجھتے چلے جائیں اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی ایسا وجود نہیں جس کی حمدان معنوں میں برکتوں والی حمد ہو کہ اس کی برکتیں نہ ختم ہونے والی ہوں۔خدا تعالیٰ کی ہستی پر جتنا آپ غور کریں گے۔اس کے حال کے احسانات پر جتنا غور کریں گے، مستقبل میں اس سے جو کچھ چاہیں گے، ان سب مضامین کا عرصہ بہت ہی دراز ہے اور بہت ہی وسیع ہے اور حمد جس حصے سے تعلق رکھنے والی بھی ہوگی اگر آپ سچے غور کی عادت ڈالیں اور دل ڈال کر حمد کرنے والے ہوں تو اس حصے میں وہ برکتوں والی حمد ہوگی۔اس کے بعد پھر اللہ اکبر ہے اور وہاں آپ سجدے میں ـان