خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 619
خطبات طاہر جلد ۱۰ 619 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ء سمجھتے ہیں اس کو عظیم سمجھنے کے لئے ایک تو دور کا نظارہ ہے وہ کانوں کے ذریعے آپ کو بتایا جاتا ہے یا دور سے آنکھوں کے ذریعے دکھایا جاتا ہے کہ فلاں چیز عظیم ہے لیکن اس کی عظمت کا احساس اس کے قریب آئے بغیر نہیں ہوا کرتا۔جب تک آپ کسی پہاڑ کے دامن میں نہ پہنچیں آپ کو یہ علم نہیں ہوسکتا کہ پہاڑ کن معنوں میں عظیم ہے۔ہمالہ کی باتیں ہم نے بھی سن رکھی تھیں مگر جب ہم ہمالہ کی طرف روانہ ہوئے اور ہمالہ کے دامن میں پہنچے اور بلند و بالا چوٹیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی عظمت کیا ہوا کرتی ہے۔اسی طرح وہ انسان جو عظیم کہلاتے ہیں دور کے نظارے میں وہ عظیم مانے تو جاتے ہیں لیکن ان کی عظمت کا احساس نہیں ہوا کرتا۔عظمت کا احساس ہمیشہ قرب سے ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی عظمت در حقیقت ان لوگوں پر روشن ہوئی جو آپ کے قریب تھے اور وہ جو دور کے زمانوں میں پیدا ہوئے ان پر بھی آپ کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے روحانی قرب کا نظام جاری فرمایا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی آپ کو قریب سے دیکھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے قرب کی وجہ سے ہمیں بھی قرب نصیب ہوا اور ہم نے بھی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کی عظمتوں کا قریب سے نظارہ کیا۔یہی مضمون ہے جس کو سورہ جمعہ میں یوں بیان فرمایا گیا۔وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعه (۴) کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو محمد مصطفی ﷺ کی قربت عطا کی جائے گی۔زمانے کے لحاظ سے وہ دور ہیں لیکن خدا کی تقدیر کے تابع قریب کئے جائیں گے۔وہ اخرین میں پیدا ہونے والے اولین سے ملا دیئے جائیں گے۔پس یہاں بھی عظمت کا مضمون ہے۔جب تک کسی کی عظمت اس کے قرب سے ظاہر نہ ہو اس وقت تک اس عظمت کے نتیجہ میں عظمت کے احساس کے نتیجے میں انسان کے اندر تبدیلیاں پیدا نہیں ہوا کرتیں۔پس سبحان ربی العظیم کا مضمون سمجھنے کے بعد انسان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم نے سورہ فاتحہ میں جس خدا کی عظمت کا نظارہ کیا تھا اس خدا کے قریب تر ہو گئے ہیں اور اتنا قریب ہوئے ہیں کہ اس کے حضور جھک گئے اور اس کی اطاعت کو قبول کر لیا ور نہ دور کا خدا اطاعت کروانے کے لئے کافی نہیں۔خدا کی اطاعت حقیقی معنوں میں تبھی ہوسکتی ہے جب اس کی عظمت کا احساس ہو اور عظمت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرب کو چاہتی ہے۔پس رکوع نے اس مضمون کو مکمل کر دیا۔یہ اطاعت کی حالت ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بھی بیان فرمایا