خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد ۱۰ 58 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ہے۔انسان کے دل میں بھی ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنی جانچ کا اور یہ معلوم کرنے کا وقت ہوتا ہے کہ میں اسلام کے راستے پر ہوں یا کسی اور راستے پر ہوں خواہ انفرادی اختلافات کے وقت دل میں ارتعاش ہو یا کوئی اختلاف کے وقت دل میں ارتعاش پیدا ہو وہ وقت ارتعاش کا ایسا وقت ہے جبکہ مومن اپنے ایمان کی پہچان کر سکتا ہے اپنے دل کے آئینے میں خدا سے اپنے تعلق کو دیکھ سکتا ہے۔پس آج تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کو ایسا رد عمل دکھانا چاہئے جس رد عمل میں ایک انگریز احمدی بھی بلاتر در یہ کہتے ہوئے شریک ہو سکتا ہے کہ یہ سچائی کی تعلیم ہے اور میری قومی وفاداری سے اس کے تصادم کا کوئی سوال نہیں اور افریقہ کا احمدی بھی یہ کہتے ہوئے اس رد عمل میں شریک ہوسکتا ہے کہ یہ بین الاقوامی سچائی کی تعلیم ہے اور میرے ملک سے اس کے تصادم کا کوئی تعلق نہیں۔غرضیکہ مشرق اور مغرب کے بسنے والے تمام بنی نوع انسان اگر فی الحقیقت ایک تعلیم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو وہ اسلام ہی کی تعلیم ہے کیونکہ یہ وطنیت سے بالا ہے اور وطنیت سے متصادم نہیں ہے کیونکہ سچائی وطنیت سے متصادم نہیں ہوسکتی اگر وطنیت کا غلط تصور ہے تو سچائی کے آئینہ میں وہ تصور غلط ثابت کیا جاسکتا ہے اس لئے جب میں کہتا ہوں اسلام کی تعریف وطنیت سے متصادم نہیں ہے اس سے ٹکراتی نہیں ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ان کی وطنیت کا تصور اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتا۔بعض ملکوں کے وطنیت کے تصور ہی ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ان کی تعریف ہی مختلف ہوتی ہے جیسا کہ آج دنیا کے اکثر ممالک میں انصاف کی تعریف بدل گئی ہے۔وفا کی تعریف بدل گئی ہے۔وطنیت کے معنی ہیں بیچ ہو یا جھوٹ ہو اپنے ملک کے ساتھ وفا کرو خواہ اس کے نتیجے میں انسان کی اعلیٰ قدروں سے بے وفائی ہو اور خدا کی اس تعلیم سے بے وفائی ہو جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائی گئی ہے۔اگر یہ وطنیت کی تعریف ہے تو پھر اسلام ضرور اس سے متصادم ہے لیکن ان معنوں میں متصادم ہے کہ اس تعلیم کو درست کرے اور خواہ اس درستی کی راہ میں کتنی ہی قربانیاں پیش کرنی پڑیں جب تک بنی نوع انسان فطرت کے مطابق سیدھے اور صاف نہیں ہوجاتے اوران کی فطرت خدا کے حضور لبیک نہیں کہتی اس وقت تک اس دائرے میں اسلام کا ان غلط تعریفوں سے تصادم رہے گا اور یہ ایک ایسا تصادم ہے جس میں اسلام کو اپنی تائید میں ہر وطن سے اٹھتی ہوئی آواز سنائی دے گی۔آج بھی دنیا میں جو حالات گزر رہے ہیں ان میں جماعت احمد یہ جو مؤقف اختیار کر رہی