خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 57
خطبات طاہر جلد ۱۰ 57 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء صلى الله تلوار ہاتھ میں پکڑو اور تمام دنیا میں انکار کرنے والوں کی گردنیں کاٹتے پھرو اور جو تسلیم کرے اور سر جھکادےصرف اسی کو امن کا پیغام دو ، باقی سب کے لئے تم فساد اور جنگ کا پیغام بن جاؤ۔یہ نہ عقل کے مطابق بات ہے نہ عملاً دنیا میں ایسا ہو سکتا ہے نہ کبھی ہوا ہے اس لئے جماعت احمدیہ کو ہمیشہ اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب ہم مقابلے کی اور جہاد کی اور تمام بنی نوع انسان پر اسلام کو غالب کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو قرآن اور محمد مصطفی ﷺ کی اصطلاحوں میں باتیں کرتے ہیں اور دنیا کی اصطلاحوں سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ آج کے ابتلاء کے وقت وہ مسلمان جوان باتوں کو نہیں سمجھ سکے، نہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ان کے راہنما ان کو غلط تعلیم دیتے ہیں ، وہ جگہ جگہ اپنے آپ کو مشکل میں مبتلا دیکھ رہے ہیں اور دن بدن ان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔مختلف ممالک میں کمزور اقلیتیں ہیں اور اسلام کی تعلیم کو غلط پیش کرنے کے نتیجے میں اپنے رد عمل کو صحیح راستے پر گامزن نہیں رکھ سکتے۔غلط راہوں پر چلاتے ہیں جہاں چلنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں شدید نقصان اٹھاتے ہیں اور اسلام کی مزید بد نامی کا موجب بنتے ہیں۔ایک یہ سوال ہے جو آج دنیا میں ہر جگہ اٹھایا جا رہا ہے جیسا کہ انگلستان میں بھی اٹھایا جارہا ہے اور اس سوال کا صحیح جواب نہ پانے کے نتیجے میں اور بعض مسلمانوں کی کم فہمی کے نتیجے میں جس رنگ میں وہ اپنے ردعمل کا اظہار انگلستان کی گلیوں میں کرتے ہیں اس رد عمل کے نتیجے میں یہاں مسلمانوں کے لئے دن بدن زیادہ خطرات پیش آرہے ہیں۔مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو جلایا جارہا ہے ، ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، عام گلیوں میں چلتے پھرتے ان کے لئے خطرات پیدا ہور ہے ہیں آج ہی ایک یہ خبر تھی کہ دو ٹیکسی ڈرائیوروں کو پکڑ کر بہت بری طرح مارا گیا کیونکہ وہ صدام حسین کی حمایت میں تھے تو یہ سب جہالت کے قصے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اسلام کی تعلیم عالمگیر ہے اور عالمگیر صفات اپنے اندر رکھتی ہے اور اپنی اندرونی طاقت کے لحاظ سے غالب آنے والی تعلیم ہے جسے دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا اور کوئی اس پر اعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا اس لئے کہ یہ سچائی پر مبنی ہے۔پس جماعت احمدیہ کو ہر ابتلاء کے وقت یا ویسے بھی اپنے طبعی رد عمل کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔جب بھی ماحول میں ہیجان ہو اس وقت انسان کا دل بھی ہیجان پذیر ہو جاتا