خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۱۰ 601 خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ء پس دعا ہی حقیقت میں روحانی زندگی ہے اور جو قوم دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے تعلق کاٹ لیتی ہے اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا پس دعا ئیں نا مقبول بھی ہوں تب بھی دعا میں لگے رہنا چاہئے کیونکہ ایک وسیلہ تو ہے ایک واسطہ تو ہے خدا سے جس سے زندگی کی رمق قائم رہتی ہے اور ایک امید باقی رہتی ہے پس ایسی دعائیں بھی جو نا مقبول ہوں اور نا مقبول رہیں بسا اوقات ان کو بھی بالآخر پھل لگ جاتے ہیں۔اس دعا سے جو ایک بدنصیب قوم کی بد دعا ہے اس سے ہم نے یہ راز سمجھ لیا کہ سب سے اہم چیز خدا سے دعا کا تعلق قائم رکھنا ہے خواہ وہ قبول ہو یا نہ ہو۔پس وہ لوگ جو بسا اوقات اپنی اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم دعا ئیں تو کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتیں۔ہم نمازیں تو پڑھتے ہیں مگر مزہ نہیں آتا کیوں نہ چھوڑ دیں ان کے لئے اس آیت میں بہت ہی بڑا انذار ہے اگر اس دنیا میں چھوڑ دو گے تو آئندہ تمہیں بھی یہی جواب ملے گا قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ پہلے بھی تم نے مجھ سے رابطہ تو ڑ لیا تھا تم مجھ سے کلام نہیں کیا کرتے تھے اب میری باری ہے میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ آج میں تم سے کلام نہیں کروں گا۔دعا کے مضمون میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ بظاہر دعا قبول نہیں ہوتی لیکن متقی کی ہر دعا ضرور قبول ہوتی ہے فرمایا بسا اوقات وہ دعا اس طرح قبول ہوتی ہے کہ انسان کو اس وقت معلوم نہیں ہوتا لیکن بعد میں اس کو علم دیا جاتا ہے کہ کس رنگ میں تمہاری دعا قبول ہوئی۔یہ مضمون ایک گہرا مضمون ہے، اس کے ذکر کے بغیر میں آگے چلتا ہوں کیونکہ میری خواہش ہے کہ آج ہی الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّالِّينَ کی دعاؤں کے اس مضمون کو ختم کر دوں۔اسلامی لڑ یچر میں ایک ایسی دعا کا ذکر ملتا ہے یا ایسے دعا کرنے والے کا ذکر اسلامی لڑ پچر میں ملتا ہے جو ایک لمبے عرصہ تک دعائیں کرتا رہا اور دعائیں نا مقبول ہوتی رہیں اور نا مقبول ہونے کی اطلاع اس کو دی جاتی رہی لیکن پھر بھی وہ تھکا نہیں۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بزرگ کوئی خاص دعا کیا کرتے تھے اور ان کے بہت سے مرید تھے کیونکہ وہ بہت ہی تقویٰ شعار انسان تھے اور دور دور تک ان کی نیکی کی شہرت پھیل چکی تھی۔بہت سے مرید آتے تھے اور کچھ عرصہ صحبت پا کر چلے جایا کرتے تھے لیکن ایک ایسا مرید تھا جس نے کبھی ان کا دامن نہیں چھوڑا۔اس کے متعلق آتا ہے کہ اس نے ایک دفعہ اپنے پیر سے ، اس بزرگ سے کہا کہ ۱۲ سال سے میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ ایک دعا روزانہ