خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 600
خطبات طاہر جلد ۱۰ 600 خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم اس میں دور ہٹ جاؤ اور مجھ سے کلام نہ کرو۔جتنی بھی دعا ئیں محفوظ کی گئی ہیں ان میں سے غالبا یہ اپنے مضمون کے لحاظ سے سب سے زیادہ دردناک دعا ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ ذکر تو ملتا ہے کہ خدا نے دعا کی اجازت دی اور لوگ دعا کرتے رہے اور پکارتے رہے لیکن دعا رد ہوتی رہی لیکن یہ ایک ایسی دعا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھ سے کلام نہ کرو اور اپنی اس حالت میں اور دور تک پیچھے ہٹ جاؤ۔اس مضمون کا ان کے اس اقرار سے تعلق ہے قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا انہوں نے کہا کہ اے خدا اس دنیا میں بدنصیبی ہم پر غالب آگئی تھی اور بدنصیبی کے غلبے کی یہ تفسیر ہے کہ سب سے زیادہ بد نصیب وہ قوم ہوا کرتی ہے جو خدا سے اس طرح تعلق تو ڑلے کہ اس کو پکارنا اور دعا میں اس کو یا درکھنا ہی بھول جائے گویا خدا کا کوئی وجود ہی نہیں رہا۔پس درحقیقت خدا کے جواب نے غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنا کی تغییر فرما دی ہے اور ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ دنیا میں سب بدنصیبوں سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہوا کرتی ہے۔دنیا میں ایسی قومیں بھی ہیں جن پر مصیبتوں کے وقت بھی آتے ہیں تب بھی وہ خدا کو نہیں پکارتے اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مصیبتوں کے وقت خدا کو یاد کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کا ذکر خدا تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر فرمایا اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ دوبارہ اس پہلی حالت کو لوٹ جائیں گے پھر بھی ہم بعض دفعہ ان کی دعائیں سنتے رہے کیونکہ ان کو دعا کی طرف توجہ تھی، یہ خیال تو آتا تھا کہ ہمارا ایک رب ہے اس کی طرف ہمیں جھکنا چاہئے اور اس سے مدد مانگنی چاہئے لیکن وہ بد نصیب جن پر بدنصیبی غلبہ پا جائے وہ دعا کے مضمون کو ہی بھول جاتے ہیں۔اس پہلو سے آج کی دنیا پر اگر آپ نظر ڈالیں تو یقیناً انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ وَالْعَصْرِفُ اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ کہ زمانے کی قسم زمانہ بہت بڑے گھاٹے میں جارہا ہے کیونکہ آج دنیا کی بھاری اکثریت وہ ہے جو دعا کا مضمون ہی بھلا چکی ہے۔جتنی دعا جماعت احمدیہ میں کی جاتی ہے اور جتنا دعا کا ذکر جماعت احمدیہ میں چلتا ہے بعض ایسے بڑے بڑے خطے ہیں جہاں ساری آبادی مل کر بھی ساری زندگیوں میں دعا کا اتنا ذکر نہیں کرتی جتنا جماعت احمد یہ ایک سال بلکہ ایک مہینہ میں کرتی ہے بلکہ جماعت احمدیہ کی دعاؤں کے بعض دن بعض براعظموں کی دعاؤں پر غالب آجاتے ہیں۔