خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 596
خطبات طاہر جلد ۱۰ 596 خطبہ جمعہ ۱۲ار جولائی ۱۹۹۱ء پہنچے گی کہ ایک مہینے کے اندر اندر اپنی مجالس عاملہ کی میٹنگز بلائیں اور اپنے سابقہ رویے کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ سارا سال کیا مستعدی کے ساتھ نادہندوں کی فکر کی گئی؟ کم شرح سے چندہ دینے والوں کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کی گئی یا نہ کی گئی ؟ اس ضمن میں United States میں میں نے مجلس عاملہ کو جو خصوصیت سے ہدایت دی تھی اس کی ریکارڈنگ باقی دنیا میں بھی بھجوا دی جائے گی اس پر بھی غور کر لیں اور اپنے مالی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔دوسری بات یہ ہے کہ اکثر ممالک رپورٹ بھجوانے میں ستی کر دیتے ہیں۔مثلاً اب ایک مالی سال کا جو عرصہ ہے وہ تو گزر چکا لیکن ابھی تک بھاری اکثریت ایسے ممالک کی ہے جنہوں نے یہاں رپورٹ بھیجنے کا خیال بھی نہیں کیا حالانکہ ہر سال اس سال کی مکمل رپورٹ آنی چاہئے۔پس ایک مہینے کے اندر اندر اب جماعتیں اپنی مکمل رپورٹ بھی بھجوائیں اور اس رپورٹ کے ساتھ معین اطلاع کریں کہ اس وقت تک ان کے پاس کتنا حصہ مرکز زائد پڑا ہوا ہے اور اس حصہ مرکز کے متعلق ہدایت طلب کریں کہ اس کو کیا کرنا ہے۔ایک زمانہ تھا جب کہ حصہ مرکز زائد کے طور پر اکثر باہر پڑا رہ جاتا تھا کیونکہ مرکز براہ راست بہت سے جماعتی کاموں میں اس طرح ملوث نہیں تھا کہ ساری دنیا میں مرکز کی طرف سے تفصیل سے خرچ ہورہا ہو بلکہ جو جماعتیں تھیں وہی خرچ کرتی تھیں اور وہی مرکزی خرچ کے مترادف سمجھا جاتا تھا اب بہت سے ایسے غیر معمولی انقلابی کام ہورہے ہیں جن کے نتیجے میں مرکز کا خرچ بہت بڑھ چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک اس خرچ میں کمی نہیں آئی لیکن بعض دفعہ یہ الجھن ضرور پیدا ہوتی ہے کہ فلاں ملک میں پتا نہیں ہمارے کتنے پیسے پڑے ہوئے ہیں، فلاں ملک میں کتنے پڑے ہوئے ہیں بعض دفعہ چھ چھ مہینے تک اطلاع نہیں ملتی اور یہاں جو ہمارے اس وقت ایڈیشنل وکیل المال شریف احمد صاحب اشرف ہیں ان کے سپرد میں نے کیا ہے ان کو بے وجہ ضرورت سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔میں تمام دنیا کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آج سے ایک مہینہ ختم ہونے سے پہلے مجلس عاملہ میں بھی اس صورتحال پر غور کریں اور مجھے براہ راست وہاں سے رپورٹ بھجوائیں۔ایڈیشنل وکیل المال کو نہ بھجوائیں کیونکہ مجھے بھجوائیں گے تو مجھے پتا لگ جائے گا کہ کس نے بھیجی ہے اور کس نے نہیں بھیجی اور ان کے ذہن میں بھی یہ دباؤ ر ہے گا کہ میرے سامنے بات آتی ہے