خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 588

خطبات طاہر جلد ۱۰ 588 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء اور واضح انسانی فطرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پس اندر کی جو کجی ہے اس کا نام شیطان ہے اور باہر سے بلانے والے جو ہیں وہ ابلیس ہیں اور آنحضرت ﷺ کے دور میں بھی ابو جہل ایک ابلیس تھا اور اسی طرح ہر دور میں بہت سے ابلیس پیدا ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ صرف ایک ہی ہو وہ بدیوں کی طرف بلاتے ہیں اور ہر انسان کے اندر ایک شیطان ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص کی رگوں میں شیطان دوڑ رہا ہے اور ہر شخص کا اپنا شیطان ہے۔جب پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ! آپ کا بھی شیطان ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں لیکن وہ مسلمان ہو گیا ہے واللہ یعنی میرے اندر کوئی کبھی رہی نہیں۔یہ فطرت کا بہت گہرا راز ہے ہر انسان کی رگوں میں کچھ نہ کچھ بھی موجود ہوتی ہے جو اسے باہر کی بدآواز کے سامنے جھکانے پر آمادہ کر دیتی ہے اور اصل خطر ناک شیطان اندر کا شیطان ہے اور وہ شیطان اگر مسلمان ہو جائے تو پھر دنیا میں کسی کو اس شخص کے او پر غلبہ نہیں نصیب ہوسکتا یعنی خدا کے سوا کسی کو اس شخص پر غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔اس گہری انسانی فطرت کے راز کو سمجھنے کے بعد ایک انسان شیطانی اثرات سے یا ابلیسی اثرات سے بہتر رنگ میں بچ سکتا ہے اور پھر مزید اس بات کو واضح فرما دیا کہ یہاں فطرت انسانی کی بات ہورہی ہے فرمایا: جہنم جس میں یہ لوگ داخل کئے جائیں گے لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابِ اس کے سات دروازے ہیں جنت کے بھی سات دروازے بتائے گئے ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے بتائے گئے ہیں۔اس ضمن میں ربوہ میں آغاز کے سالوں میں میں نے ایک مرتبہ ایک خطبہ دیا تھا جس میں سمجھایا تھا کہ ان دروازوں سے کیا مراد ہے پانچ تو حواس خمسہ ہیں کان کا دروازہ آنکھ کا دروازہ ، قوت شامہ کا دروازہ ، مزے کا دروازہ پلس کا دروازہ ، وغیرہ وغیرہ یہ پانچ سوراخ ایسے ہیں جن کے ذریعے انسان بیرونی دنیا سے رابطہ کرتا ہے۔اگر ان دروازوں پر پہرے نہ بٹھائے گئے ہوں تو جہاں بھی کمزوری ہوگی وہاں سے کوئی اچکا داخل ہو سکتا ہے، کوئی چور آ سکتا ہے پس جو لوگ ان دروازوں کی حفاظت کریں وہ خدا کے فضل کے ساتھ امن میں رہتے ہیں لیکن دو دروازے اندر بھی ہیں ان میں سے ایک دماغ کا دروازہ ہے اور ایک دل کا دروازہ ہے اور یہ دونوں دروازے ایسے ہیں جو تمام پانچوں اثرات کو قبول کرتے یا رد کرتے ہیں اور ان اثرات کے نتیجہ میں ان کی اپنی ایک شخصیت پیدا ہوتی ہے، ایک شخصیت ذہنی قابلیتوں کی شخصیت ہے ایک شخصیت جذباتی قابلیتوں کی شخصیت ہے