خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 587

خطبات طاہر جلد ۱۰ 587 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء کے انبیاء بھی اسی رستے پر نیک نمونے دکھا رہے ہیں اور جن کو خدا کے ان نیک بندوں پر ایمان لانے کی توفیق ملتی ہے وہ مخلص بنا دیئے جاتے ہیں اور ان پر شیطان کا کوئی دخل نہیں رہتا فر مایا: اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَوِيْنَ ( الحجر :٤٣ ) میرے بندوں پر تجھے کوئی تسلط نہیں سوائے ان کے جو پہلے سے گمراہ ہوں اور ٹیڑھی طبیعت رکھتے ہوں۔وَاِن جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ ( الحجر : ۴۴) اور جہنم تم سب کے لئے وعدہ ہے أَجْمَعِينَ سب کے سب اس جہنم میں داخل ہوں گے۔لَهَا سَبْحَةُ أَبْوَابِ اس کے سات دروازے ہیں لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٍ مَقْسُوم (الحجر: ۴۵) اور ان کے ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مقرر ہو چکا ہے ایک ایسا جز ہے جو پہلے سے تقسیم شدہ ہے وہ ان دروازوں کے ذریعے داخل ہوگا۔ان سادہ سی آیات میں بہت سی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر ضروری ہے۔شیطان نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا میں سب کو گمراہ کر دوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو تو گمراہ کرے گا ان پر بھی تیرا تسلط اس وجہ سے ہوگا کہ ان کے اندر کبھی موجود ہوگی ورنہ تیرا کچھ بھی اختیار نہیں ہے۔یہ ایک بہت گہرے فلسفے کی اور حکمت کی بات ہے جسے مومن کو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان کا کسی پر بھی کوئی تسلط نہیں ہے جن کو خدا مخلص کر دے ان پر تو اس کے تسلط کا سوال ہی نہیں، دوسرے جو بندے ہیں ان میں سے وہ جو ٹیڑھے ہوں وہی شیطان کو دعوت دیتے ہیں جن کے نفس میں کبھی نہ ہوان پر شیطان کو غلبہ نہیں مل سکتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ میرے بندوں پر تو تیرے غلبے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغُوِيْنَ سوائے اس کے کہ کوئی ٹیڑھے لوگ خود تیری پیروی کریں۔پس گناہ کا فلسفہ ہے جو بہت کھول کر بیان فرما دیا گیا۔اگر اب اپنی غلطیوں پر کوئی انسان گہری نظر سے نگاہ ڈالے اور اپنے ماضی کے حالات کا مطالعہ کر لے تو اس پر یہ خوب کھل جائے گا کہ اندر کی کبھی ہے جو باہر سے گناہ کو بلاتی ہے جب تک وہ کبھی انسانی فطرت میں پیدا نہ ہوانسان گناہ کی طرف نہ راغب ہوسکتا ہے نہ گناہ اسے مغلوب کر سکتا ہے اس لئے پہلے اندر ایک فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہی فیصلہ ہے جو آگے پھر گناہ کے رستوں کی پیروی کرنے کی توفیق دیتا ہے۔پس کیسا خوبصورت