خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد ۱۰ 586 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء مَالَكَ الَّا تَكُونَ مَعَ السُّجِدِينَ (الحجر:۳۳) یہاں لفظ ابلیس خاص طور پر قابل توجہ ہے۔میں آگے جا کر بیان کروں گا کہ کیوں یہ یہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔قَالَ رَبِّ فَانْظُرْنِى إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (الحجر: ۳۷) اے خدا مجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دے کہ لوگوں کو تو دوبارہ نئی زندگی عطا کرے گا۔قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ( الحجر: ۳۸) فرمایا: ہاں ہم تجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دیتے ہیں إِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (الحجر:۳۹) اس معین وقت تک کے لئے جس کا ذکر گزر چکا ہے قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا زَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَتَهُمْ أَجْمَعِينَ ( الحجر :۴۰) اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دے دیا ہے میں ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے وہ بہت ہی حسین اور خوبصورت بنا کر دکھاؤں گا۔وَلَا غُوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ اور میں تیرے سب کے سب بندوں کو گمراہ کروں گا إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر ۴۱) وہاں شیطان نے خود یہ استثناء کیا کہ سوائے ان بندوں کے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔یہاں مخلص کا لفظ نہیں بلکہ مخلص کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو تو خالص کر دے۔پس شیطان نے جو بات کی ہے وہ بھی حکمت کی بات ہے اور شیطان کی طرف بھی قرآن کریم نے جو باتیں منسوب کی ہیں ان میں سے بعض عقل اور سمجھ کی باتیں ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے شیطان دنیا میں صاحب عقل بھی ہوتے ہیں مگر انکار کی صورتیں میں ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں۔جس طرح ابو جہل پہلے ابوالحکم کہلاتا تھا۔حکمت کا باپ، وہ جہالت کا باپ بن گیا اور یہاں ابلیس سے مراد میں سمجھتا ہوں ہر دور کا ابلیس ہے اور مہلت دینے سے مراد یہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو بھیجتا ہے تا کہ اس کے خالص بندوں کا اور ظاہری بندوں سے بچے اور مخلص بندوں کو الگ کر کے دکھایا جائے تو ان کو نبی کے ذریعے مخلص بنایا جاتا ہے۔وہ لوگ جو نبی کی اطاعت کرتے ہیں وہ خدا کی طرف سے خالص بنائے جاتے ہیں اپنے طور پر کوئی خالص نہیں بن سکتا۔تو یہ نبوت کا مضمون ہے جس کو شیطان نے یہاں بیان کیا ہے وہ کہتا ہے۔ہاں وہ لوگ جن کو نبوت کے ذریعے تیری طرف سے خلوص عطا ہوگا اور وہ نبوت کی پیروی کے ذریعے مخلص بنائے جائیں گے وہ یقیناً میری پیروی نہیں کریں گے۔قال هَذَا صِرَاطٌ عَلَى مُسْتَقِيمُ (الحجر:۴۲) خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا یہ وہ سیدھا رستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔یعنی شیطان بھی وہیں بیٹھا ہوا بہکا رہا ہے اور خدا