خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 55
خطبات طاہر جلد ۱۰ 55 خطبہ جمعہ ۲۵ /جنوری ۱۹۹۱ء اسلام کا کوئی وطن نہیں اور ہر وطن اسلام کا ہے۔اے مسیح محمدی کے غلامو! اقوام متحدہ کی نئی فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے والے تم ہو۔( خطبه جمعه فرموده ۲۵ /جنوری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اسلام کا کوئی وطن نہیں ہے اور ہر وطن اسلام کا ہے۔اس بنیادی اور نہ تبدیل ہونے والے روشن اصول کو بھلا کر بسا اوقات دنیا کے مختلف امتحانوں اور ابتلاؤں کے وقت بعض ملکوں کے مسلمان غلطی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور اسلام کی بدنامی کا بھی موجب بنتے ہیں۔اسی کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تم اپنی وفاداریوں کا تعین کرو اور بہت سے ممالک جہاں بھاری اکثریت غیر مسلموں کی ہے وہ اپنے ملک کی مسلمان اقلیت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ تم ہمیں واضح طور پر یہ بتا دو کہ تم پہلے اسلام کے وفادار ہو یا پہلے وطن کے حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام کا کوئی وطن نہیں اور ہر وطن اسلام کا ہے۔اس حقیقت میں بہت ہی گہرے حکمتوں کے راز پوشیدہ ہیں اور ایک بات جو کھل کر انسان کے سامنے ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ کہیں دنیا میں اسلام اور وطنیت کا تصادم نہیں ہوسکتا یعنی اسلام کے ان بچے اصولوں کا جو عالمی ہیں۔ان کا عالم کے کسی حصے سے تصادم ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ عقلاً کل کا جزو سے تصادم قابل فہم نہیں یعنی