خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۱۰ 585 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء وہ اپنے بد انجام کو پہنچے۔پس تمہارے سامنے ان کا ماضی ہے اور اب تم اس ماضی کو بھلا کر نظر انداز کرنے کے بعد جب اس کو مستقبل کے طور پر اپنے سامنے دیکھ رہے ہو تو ہمیں کہتے ہیں کہ ہمیں واپس کر دو۔ہم نصیحت پکڑیں گے۔یہ فطرت کے خلاف بات ہے جسے نصیحت پکڑنی ہو وہ دوسرے کے بدحال کو دیکھ کر اپنے لئے نصیحت کا رستہ اختیار کرتا ہے اور نیکی کارستہ اختیار کرتا ہے۔جب اپنے اوپر آپڑے تو پھر بچنے کا کوئی سوال نہیں رہا کرتا۔وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ اور پھر وہ بھی تمہاری طرح بہت مکر کرنے والے تھے اور خدا کے پاس ان کا مگر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے کہ ان کو جس طرح چاہے ذلیل اور رسوا کر کے نامراد کر دے عِندَ اللهِ مَكْرُهُم ان کے مکر خدا کی مٹھی میں ہیں ان کے مکر خدا والوں کو کیا کہہ سکتے ہیں دوسرا یہ کہ مکر خدا کے پاس ان کے مکروں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ اگر ایسے ایسے مکر بھی ان کے پاس ہوتے جن سے پہاڑٹل جاتے تب بھی خدا کے قبضہ قدرت میں تھے۔خدا کی اجازت کے بغیر وہ سارے مکر بے اثر رہتے اور بے اثر رہے تو جو دعا آخر پر نا منظور کی جاتی ہے اس کا فیصلہ بھی خدا تعالیٰ ساتھ ساتھ بیان فرماتا چلا جارہا ہے۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّى خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَا مَّسْنُونٍ ( الحجر : ۲۹) اس ذکر کے بعد کہ کس طرح ہم نے انسان کو ایک گلی سٹری مٹی سے پیدا کیا اور پھر فرشتوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا فرماتا ہے۔سب نے اطاعت کی سوائے ابلیس کے جب خدا نے پوچھا کہ کیوں تو نے اطاعت نہیں کی تو اس نے کہا کے قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرِ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونِ ( الحجر : ۳۴) کہ میں ان میں سے نہیں ہوں جو ایک ایسی ذلیل چیز کی اطاعت کریں جسے تو نے گندی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ایسی گھٹیا اور رسوا چیز کی اطاعت کرنے والوں میں میں نہیں ہوں۔قَالَ فَاخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّكَ رجيم (الحجر:۳۵) فرمایا کہ تو اپنی موجودہ کیفیت سے باہر نکل جا یعنی ہم تجھے ایسی حالت میں نہیں رہنے دیں گے جس حالت میں ہم نے تجھے بنایا تھا۔تجھے ذلیل ورسوا کریں گے۔وانٌ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلى يَوْمِ الدِّينِ (الحجر: ۳۶) اور قیامت کے دن تک کے لئے تجھ پر لعنت ہے یہ سننے کے بعد تب شیطان نے دعا کی لیکن یہاں لفظ شیطان نہیں ہے بلکہ ابلیس ہے یابلیس