خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد ۱۰ 584 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہ ذکر فرمایا کہ جب وہ عذاب کا منہ دیکھیں گے تو بچنے کے لئے دعا کریں گے لیکن جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا بظاہر اس دعا سے تعلق نہیں ہے فرمایا: أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَالَكُمْ مِنْ زَوَالِ تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تم پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔وہ تو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے خدا! ہمیں بچالے۔ہم تو بہ کریں گے، ہم سے عذاب ٹال دے تا کہ ہم دوبارہ موقع پائیں کہ تیرے رسولوں کی پیروی کریں اور تجھ پر ایمان لائیں لیکن جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ کیا اس سے پہلے تم ہی لوگ یہ قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی زوال نہیں آئے گا۔اصل بات یہ ہے کہ یہاں ان کا فروں کا ذکر ہے جو زمین میں تکبر کرتے ہوئے خدا کی جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوؤں کو ایسے چیلنج کرتے ہیں کہ جن کے نتیجے میں گویا خدائی کے اختیارات ان کو مل چکے ہیں اور کھلے کھلے چیلنج کرتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے کر لو، جو عذاب لا سکتے ہو لے آؤ ہم پر کبھی کوئی زوال نہیں آئے گا۔ہمیں ہمیشگی کی بادشاہت عطا ہوئی ہے، ہماری طاقت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو یہ ساری کہانی ہے جو اس قسم کے اندر بیان فرما دی گئی۔تم یہ کہا کرتے تھے اور قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تمہیں زوال نہیں آئے گا، کن معنوں میں زوال نہیں آئے گا۔جب وہ انبیاء سے ٹکر لیتے تھے تو ان کو وہ کہا کرتے تھے کہ جو کرنا ہے کر گزرو۔جو دعائیں کرنی ہیں کرو کوئی دنیا میں ایسی طاقت نہیں۔کوئی آسمان پر ایسی طاقت نہیں جو ہماری ترقیوں کو تنزل میں بدل دے۔فرمایا! کہ جن کے تکبر کا یہ حال ہے وہ جب عذاب کو سامنے دیکھتے ہیں اور اس زوال کو دیکھتے ہیں جس کے متعلق وہ انکار کیا کرتے تھے تو اس وقت ان کی دعا کے قبول ہونے کا کوئی وقت نہیں رہتا ؤ سَكَنْتُمْ فِي مَسْكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ یہاں ہر جگہ جہاں کا فریا ظالم کی دعا بیان ہوئی ہے اس کے رد ہونے کے دلائل بھی بیان فرما دیئے گئے ہیں فرمایا: تم تو ایسے لوگ ہو جو تم نے کبھی نصیحت پکڑی ہی نہیں۔اب عذاب کو دیکھ کر کیسے نصیحت حاصل کرو گے۔کیا اس سے پہلے تم جیسے لوگوں پر عذاب نہیں آئے تھے؟ کیا انہی کے گھروں میں تم سے نہیں رہے؟ کیا تم نے تاریخ سے یہ سبق نہیں سیکھے کہ تم جیسے کام کرنے والے تم سے پہلے ہلاک کر دئے گئے۔پس اگر عذاب سے تم نے نصیحت پکڑنی ہے تو پہلوں کے عذاب سے کیوں نصیحت نہ پکڑی وہ بھی تو تم جیسے ہی تھے تمہارے جیسے کاموں کے نتیجے میں