خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۱۰ 583 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۹۱ء بھیجے ہوؤں کی پیروی کریں گے أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ کیا اس سے پہلے تم یہ قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تمہیں کبھی کوئی زوال نہیں ہوگا۔ وَسَكَنْتُمْ فِي مَسْكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَ بْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ (ابراهيم : ۴۶) اور تم ان لوگوں کے گھروں میں بسے رہے جنہوں نے تم سے پہلے اپنی جان پر ظلم کئے تھے وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ اور تم پر خوب روشن ہو چکا تھا کہ ان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا تھا وَضَرَ بْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ اور ہم نے تمہارے سامنے کھول کھول کر مثالیں بیان کی تھیں وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ اور جو مکر وہ کر سکے انہوں نے وہ سارے مکر کئے اور اللہ کے پاس ان کے مکروں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے وَ إِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ (ابراہیم : ۴۷) خواہ ان کے مکر ایسے بھی تھے جس سے پہاڑ ٹل جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروں کو نا کام کر دیا۔ یہ جو دعا ہے یہ ویسی ہی دعا ہے جیسی کئی دعا ئیں اس سے پہلے بھی آپ کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں کہ عین اس وقت جبکہ خدا کا فیصلہ آجائے اس وقت کی دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں اس سے پہلے فرعون کی دعا کی مثال بھی گزری ہے لیکن اس میں خدا تعالیٰ نے خود استثناء فرمایا ہے کہ جزوی طور پر میں تیری بات مانوں گا لیکن مکمل طور پر نہیں مانی جائے گی ۔ اکثر دعا ئیں تو وہ بیان کی گئی ہیں جو قیامت کے دن جہنم کے سامنے پیش کرتے ہوئے یا جہنم کے اندر ظالموں کی التجائیں ہیں اور ان سب کے رد ہونے کا ذکر ہے۔ کچھ دعا ئیں وہ ہیں جو موت کا منہ دیکھ کر یا عذاب کا منہ دیکھ کر کی جاتی ہیں ان کے بھی اکثر رد ہونے کا ذکر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کی دعا ئیں صرف دو تین مضامین پر کیوں مشتمل ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ مومن کو تو ایسے دور میں ابتلاؤں کی ایک لمبی زندگی ملتی ہے جبکہ دعائیں قبول ہو سکتی ہیں وہ دعائیں کرتا ہے اور دعائیں مقبول ہوتی ہیں اور اس کے بے شمار نمونے ہیں جو اس کی زندگی کے مختلف حالات پر چسپاں ہوتے ہیں لیکن کافر کی دعائیں ہوتی اس وقت کی ہیں جبکہ آخری وقت آ پہنچا ہو اس لئے صرف نجات کی چند دعائیں یا عذاب سے بچنے کی دعا کے سوا آپ کو کوئی دعا نظر نہیں آئے گی ۔ ان کو دعا کا شعور نہیں ہوتا اس لئے دعا کے بہت تھوڑے نمونے ہیں جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھے ہیں لیکن ان پر بھی جب غور کریں تو ان سے ہمیں بہت سی نصیحتیں ملتی ہیں۔