خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 582
خطبات طاہر جلد ۱۰ 582 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء میرا رجحان لازماً اس طرف ہے اور میرے نزدیک غرق ہونے اور غرق ہونے کے بعد بچائے جانے میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ عام انسانی تجربہ ہمیں بتا تا ہے کہ بار ہا ڈوبے ہوؤں کو بچالیا گیا ہے۔خاص طور پر فرعون کے ارد گرد جو اس کا محافظ عملہ تھا اور خاص طور پر اس لئے کہ وہ دریائے نیل کے کنارے بسنے والے لوگ تھے اور ان میں بڑے بڑے تیراک تھے بہت ماہر غوطہ خور موجود تھے ان لوگوں کا اپنے بادشاہ کو بچانے کی کوشش نہ کرنا بعید از فہم ہے اس لئے ہرگز بعید نہیں بلکہ میرے نزدیک واقعہ یہی ہوا کہ فرعون کے ڈوبنے کے بعد اس کے ساتھیوں نے غوطہ خوری کے ذریعے جو بھی انہوں نے کوشش کی اس کی لاش کو نکالا اور چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ میں تیرے بدن کو نجات بخش دوں گا اس لئے وہ بدن زندہ رہا اور ایک لمبے عرصے تک اس بدن کے ساتھ وہ چلتا پھرتا حکومت کرتا ہوا دکھائی دیا لیکن اس کی روح کو نجات نہیں بخشی گئی گویا زندگی میں ہی اس کی موت کا فیصلہ کر دیا گیا تھا اور یہ ایک ایسا قطعی فیصلہ تھا جو باقی سب سے اس کو جدا کرتا ہے باقی لوگوں کے لئے آخر دم تک تو بہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اس سے زیادہ اور کوئی کیا عبرت کا نشان ہو سکتا ہے کہ ایک لمبی زندگی اور بادشاہت کی اور فخر کی زندگی اس کے سامنے پڑی ہو اور اس کو معین طور پر خبر دی گئی ہو کہ تم پر ہر قسم کی تو بہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے اب تم ایک ظاہری زندگی بسر کرو گے لیکن اس میں کوئی روحانیت نہیں ہوگی۔تو یہ ساری باتیں میرے ذہن میں تھیں اور ہیں اس کے باوجود میرا رجحان اسی طرف ہے کہ قرآن کریم نے جو وعدہ کیا تھا وہ بدنی زندگی کا وعدہ تھا محض فرعون کو عبرت کا نشان بنانے کا وعدہ نہیں تھا۔اب ہم بقیہ آیات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ایک دعا یہ بتائی گئی ہے کہ:۔وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوْا رَبَّنَا (ابراہیم: ۴۵) أَخْرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نَّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعَ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَالَكُمْ مِنْ زَوَالٍ اور تو لوگوں کو اس دن سے ڈرا جس دن عذاب ان کو آلے کا فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخْرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ خدا سے یہ استدعا کریں گے کہ اے خدا ہمیں کچھ اور مہلت دے دے۔تجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُل ہم تیری دعوت کو قبول کریں گے اور تیرے