خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد ۱۰ 581 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء کوئی شخص تیرنے کی کوشش کرتا ہو، بیچنے کوشش کرتا ہولیکن ہار جائے اور پانی کے اندر ڈوب جائے ڈوب مرنے کا معنی غرق کا میں نے کہیں نہیں دیکھا اس لئے ان دونوں میں میرے نزدیک تضاد کوئی نہیں جس طرح خدا تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں سے بھی ایک نبی کو زندہ بچالیا تھا جہاں اس کے بچنے کے امکان ایک عام ڈوبے ہوئے آدمی کے بچنے کے مقابل پر بہت کم تھے۔بارہا ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص ڈوب جاتا ہے اور ڈوبے ہوئے کو ایسی حالت میں نکال لیا جاتا ہے کہ ابھی اس نے دم نہیں توڑا اور پھر کوشش کر کے اس کو بچالیا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جہاں غرق کا لفظ استعمال فرماتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ فرعون ضرور ڈوبا ہے اور اپنے لشکر کے ساتھ ڈوبا ہے اور جہاں فرماتا ہے کہ ہم تیرے بدن کو نجات بخشیں گے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈوبے ہوئے کے لئے ظاہری زندگی کے بچانے کا انتظام ممکن ہے اور خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام ضرور کیا ہوگا کیونکہ اس وعدے کا خصوصیت کے ساتھ یہاں ذکر کرنا ایک گہرا پیغام رکھتا ہے اور وہ پیغام اس وقت تو لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا اب کی دنیا میں ہمیں سمجھ آیا جبکہ ہم نے فرعون کی لاش کو بچاہوا اور میں ہوئی ہوئی حالت میں دیکھا لیکن جب میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ فرعون جس نے موسیٰ سے ٹکر لی تھی اور جس کے متعلق یہ آتا ہے کہ ہم نے اس کو غرق کیا وہ فرعون ۹۰ سال کی عمر میں طبعی موت مرا ہے اور اس کی ممی اور اس کے سارے کاغذات جو ساتھ ہیں اور تمام تحریریں یہ بتا رہی ہیں کہ وہ نو عمری میں غرق ہونے کی حالت میں نہیں مرا تھا بلکہ مبی عمر پا کر اس کے بعد اس نے کئی لڑائیاں بھی کی ہیں ان لڑائیوں کے بعد ایک جگہ فلسطینیوں کے ہاتھوں بڑی بھاری شکست بھی کھانے لگا تھا جس کو بعد میں دوبارہ ایک قسم کی فتح میں تبدیل کیا گیا لیکن ایک موقع پر تو بہر حال بہت ذلت ناک شکست بھی اس نے کھائی۔سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید کا ایسا ترجمہ کیا جائے گا جس کے مقابل پر تاریخی گواہی کھڑی ہو اور بجائے اس کے کہ وہ لاش عبرت کا نشان بنے نعوذ بالله من ذلك قرآن کریم پر ایک شک ڈالنے کا نشان بن جائے۔ایک یہ پہلو ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کریم کے معانی پر غور کر کے اس کی خاص طرز کلام کو سمجھتے ہوئے ایسے معنی کئے جائیں جو بجائے اس کے کہ حقائق سے متضاد دکھائی دیں۔حقائق کو اس رنگ میں پیش کریں کہ غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ کی شان ان سے ظاہر ہو اور وہ لاش واقعہ عبرت کا نشان بن جائے۔