خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۱۰ 579 خطبہ جمعہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۱ء فرعون کے غرق ہونے کی وضاحت اللہ کے بندوں پر شیطان کو کوئی تسلط حاصل نہیں ( خطبه جمعه فرموده ۱۲ جولائی ۱۹۹۱ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گزشتہ جمعہ میں میں نے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی تفسیر کے دوران الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم گروہ کی بعض دعا ئیں نمونہ آپ کے سامنے رکھی تھیں وہی مضمون آج بھی جاری رہے گا۔لیکن دوسری آیت جو گزشتہ تسلسل میں پیش کرنی تھی اس سے پہلے میں فرعون کے غرق ہونے سے متعلق کچھ مزید کہنا چاہتا ہوں۔میں نے یہ استنباط کیا تھا کہ قرآن کریم نے جب یہ فرمایا کہ جب فرعون غرق ہونے کے قریب پہنچا تو اس نے ایک دعا کی اور اس دعا کے نتیجے میں ہم نے اس کو یہ جواب دیا کہ آلَن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (یونس:۹۲) اب تو دعا کا وقت نہیں رہا کیونکہ اس سے پہلے تو مسلسل نافرمانی کرتا رہا اور فساد پھیلاتا رہا فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ (یونس:۹۳) لیکن آج کے دن ہم تیرے بدن کو ضرور نجات دے دیں گے لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً تا کہ وہ جو تیرے بعد آنے والے ہیں ان کے لئے تو عبرت کا نشان بن جائے۔اس بحث میں میں نے یہ امکان پیش نظر رکھا تھا اور میں اب بھی یہی یقین رکھتا ہوں کہ بدن کی نجات کا جو وعدہ فرعون کو دیا گیا تھا اس سے مراد محض لاش کی نجات نہیں کیونکہ لاشیں تو بہتوں کی