خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد ۱۰ 573 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء میں دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر مخلص ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو رد نہیں کر سکتی۔یہ مضمون آپ نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی دیکھا ہوگا۔بعض لوگ بار بار شرارت کرتے ہیں لیکن جب پکڑے جائیں تو واقعی ایسی عاجزی کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں۔ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں وہ تھر تھر کانپتے ہیں، پاؤں کو جھک جھک کر ہاتھ لگاتے ہیں کہ خدا کے لئے اس دفعہ معاف کر دو۔آئندہ ہم نہیں ایسا کریں گے اگر پتا بھی ہو آپ کو کہ آئندہ پھر بھی کریں گے وہ عاجزی اور انکساری کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ ایک شریف انسان اس کو رد نہیں کرسکتا۔پس اگر ایک عام انسان بھی اس الحاح سے متاثر ہو جاتا ہے اس عاجزی سے متاثر ہو جاتا ہے تو خدا تو بہت زیادہ غفور و رحیم ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کو علم نہیں۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ پھر یہی حرکتیں کریں گے لیکن ساتھ ہی بیان فرما دیا کہ آخر ہمارے پاس آنا ہے۔ہمیں پتا ہے کہ بھاگ کے تو کہیں جائیں گے نہیں۔چونکہ انجام بالآخر میرے پاس ہونا ہے اس لئے مجھے اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا چاہے میں دس دفعہ معاف کروں ہزار دفعہ معاف کروں۔چونکہ مجھ تک پہنچنے والے ہیں اس لئے آخری فیصلہ میں قیامت کے دن کروں گا۔جب سب کے اعمال میرے حضور پیش کئے جائیں گے چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے ایک دعا کے ذکر کے بعد میں آج کا خطبہ ختم کروں گا۔فرمایا ہے: وَجُوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاءِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وعَدُوًّا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ أَمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أُمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاعِيْلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: ٩١) فرماتا ہے کہ جب ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پارا تار دیا اور فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ اس کی پیروی کی اور بغاوت کی باتیں کرتے ہوئے اور دشمنی کے ارادے لے کر ان کے پیچھے چل پڑا۔یہاں تک کہ جب اس کے غرق ہونے کا وقت آ پہنچا۔اس وقت اس نے یہ دعا کی۔لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاعِیلَ میں گواہی دیتا ہوں کہ بنو اسرائیل جس خدا پر ایمان لائے ہیں اس خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور میں مسلمان ہوتا ہوں۔تب خدا نے فرمایا آنتن (یونس :۹۲)۔کیا اب جب کہ تیرے غرق ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔