خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 569
خطبات طاہر جلد ۱۰ 569 خطبہ جمعہ ۵ر جولائی ۱۹۹۱ء حَتَّى إِذَا اذَارَكُوْا فِيْهَا جَمِيعًا یہاں تک کہ جب وہ سب اکٹھے ہوجائیں گے۔قَالَتْ أُخْرَبهُمْ لا ولهم اس وقت بعد میں آنے والے اپنے پہلے آنے والوں کے متعلق اپنے رب سے یہ عرض کریں گے کہ اے خدا یہ وہ شیطان لوگ ہیں جن کے پیچھے چل کر ہم نے اپنا دین بھی گنوایا اور اپنی دنیا بھی گنوائی۔یہ وہ بد بخت ہیں جن کو ہم نے اپنا امام بنالیا تھا پس ان کو دوہرا عذاب دے اور یہ بھی ایک خاص گناہ گار کی فطرت کا اظہار ہے ایک مومن تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے خدا بخش دے۔معاف کر دے۔اور جو شیطان صفت لوگ ہیں ان کو مزا اور ہی طرح آتا ہے ان کو اگر اپنی بخشش میں مزا نہیں تو دوسرے کے زیادہ عذاب میں مزا ہے۔اپنی دنیا کی زندگیوں میں بھی ان کا یہی طریقہ ہوا کرتا تھا کہ کسی کے دکھ کو دیکھ کر ان کو سکون ملتا تھا۔تو جہنم میں جا کر بھی ان کا مزاج نہیں بدلے گا وہ یہ نہیں کہیں گے کہ اے خدا ان بدبختوں نے ہمیں گمراہ کیا اور اس لئے ہمیں معاف کر ہم سے رحم کا سلوک فرما۔وہ کہیں گے اچھا پھر ان کے دہرے عذاب کا مزا ہمیں چکھا۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرمائے گا لِكُلِّ ضعف دیکھو دونوں کے لئے دوہرا ہی عذاب ہے۔ولكِنْ لا تَعْلَمُونَ لیکن تم اس بات کو سمجھتے نہیں۔دونوں کے لئے دوہرا عذاب کیوں ہے ایک دوسرے کے لئے گمراہی کا موجب بنا اور ایک نے گمراہی اختیار کی۔سوال یہ ہے کہ اس کا یہ جواب کیوں دیا گیا کہ دونوں کے لئے دو ہرا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی کی پیروی کرتے ہوئے ایک برانمونہ پیش کرتا ہے وہ محض کسی برے نمونے کے پیچھے چلنے والا نہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے خود بھی وہ ٹھوکر کا سامان بن جاتا ہے۔تو کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ ہم نے ان کی پیروی کی اسلئے ان کو دو ہر اعذاب دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم تو پیروی کر کے اب میرے حضور حاضر ہو گئے لیکن تم نہیں جانتے کہ تم نے کتنے بد نمونے پیچھے چھوڑے ہیں اور کتنی آنے والی نسلوں کی گمراہی کے سامان پیدا کئے ہیں اس لئے جس دلیل سے تم کہتے ہو کہ ان کو دوہرے عذاب میں مبتلا فرما وہی دلیل تمہارے دوہرے عذاب کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہرگز ظلم کرنے والا نہیں اور خدا تعالیٰ جب گمراہوں اور مغضوبوں سے باتیں کرتا ہے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوٹوک جواب دے دیا کوئی دلیل نہیں لیکن جب آپ گہری نظر سے دیکھیں تو خدا کے دوٹوک جواب میں گہری حکمت کار فرما ہوتی ہے اور بہت ہی پر شوکت