خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد ۱۰ 568 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس اس کا دفاع کر رہا ہو گا۔اسی طرح آگے پیچھے، دائیں بائیں ہر طرف اللہ تعالیٰ کے احسانات انسان کو گھیرے ہوئے ہیں اور ایک احسان مند ہونے والا دل کبھی بھی اس کے نتیجے میں شیطان کے حملے کا نشانہ نہیں بن سکتا۔تو شیطان نے پتے کی بات یہ کہی کہ میں ناشکروں پر حملے کروں گا اور جتنے ناشکرے ہیں وہ میرے غلام بن جائیں گے اور یہ بات درست ہے۔گناہ کا آغاز ناشکری سے ہوتا ہے اور اس کا انجام وہی ہے جس طرح قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا کہ تم سب سے پھر میں جہنم کو بھر دوں گا۔ایک دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو میرے عبد ہیں ان پر تو غالب نہیں آسکے گا جو چاہے کر لے۔اور عبد سے مراد وہی ہے کہ جو احسان مند لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے احسانات کو یا درکھ کے اس کے غلام ہو جاتے ہیں۔ایک اور دعا ہے سورہ اعراف آیات ۳۸ تا ۴۰ میں ان میں دعا والا حصہ یہ ہے۔قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةً لَعَنَتْ أَخْتَهَا حَتَّى إِذَا اذَارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَبُهُمْ لِأُ وَلَهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَاء أَضَلُّوْنَافَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلِّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَّا تَعْلَمُونَ فرمایا کہ جب ایک امت ایک قوم، بعض گروہ جب نئے داخل ہوں گے جہنم میں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَرِ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ کہ اے لوگو تم اپنے ہی جیسی ایک اور امت کے مقام میں داخل ہو جاؤ تم سے پہلے بھی کچھ لوگ ایسے گزرے تھے جو تمہارے جیسے اعمال کیا کرتے تھے ان کا جو ٹھکانا ہے وہی تمہارا ٹھکانا ہے یعنی خدا دنیا میں مختلف زمانوں میں آنے والے انسانوں سے نا انصافی نہیں کرے گا جن اعمال کے نتیجے میں پرانے زمانوں میں بعض لوگ کسی خاص انجام کو پہنچے ویسے اعمال کرنے والے خواہ جب آئیں بالآخر ان کا بھی وہی مقام ہوگا۔فرمایا كُلَّمَادَ خَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ اُخْتَهَا اور اس حال میں وہ لوگ داخل ہوا کریں گے کہ جب بھی کوئی لوگ داخل ہوں گے تو اپنے جیسوں پر لعنت بھیجیں گے جس طرح مومن جب جنت میں داخل ہوں گے تو سلام کہا کریں گے اسی طرح جہنم میں جانے والے اپنے ساتھیوں پر لعنت بھیجیں گے۔