خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد ۱۰ 53 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء بھوک سے فاقہ کش ممالک کیلئے پیش کروں اور حسب توفیق ذاتی طور پر پیش کروں گا اور ساری جماعت بحیثیت جماعت بھی کچھ نہ کچھ صدقہ نکالے۔جماعت کے ایسے فنڈ ہوتے ہیں جن میں صدقات يا زکوۃ وغیرہ کی رقمیں ہوتی ہیں کچھ تو لازماً مقامی غریبوں پر خرچ کرنی پڑتی ہیں ، کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو اس کے علاوہ بچ جاتی ہیں ، وہ عفو“ کہلاسکتی ہیں۔تو قرآن کریم فرماتا ہے: وَيَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ (البقره:۲۲۰) اس عفو کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ان مدات میں سے بیچ سکتا ہے وہ بچاؤ اور غرباء کی خدمت پر خرچ کرو یعنی اور علاقوں والے غرباء کی خدمت پر بھی خرچ کرو اور اسی طرح ذاتی طور پر بھی افراد جماعت خرچ کریں اگر چہ جماعت کی ساری دولت خدا ہی کی دولت ہے اور خدا ہی کی خاطر نیک کام پر خرچ ہوتی ہے لیکن ایک یہ بھی میدان خداہی کی خاطر خرچ کرنے کا میدان ہے۔پس میں کوئی معین تحریک نہیں کرتا مگر میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ خالصہ اس نیت کے ساتھ کہ ہمارے ان صدقات کو اللہ تعالی امن عالم کے حق میں قبول فرمائے مسلمانوں کے مصائب دور کرنے کیلئے قبول فرمائے جتنا ممکن ہو صدقات دیں ہماری دعائیں بھی ان دو باتوں کیلئے وقف رہیں اور ہمارے صدقے بھی جس حد تک ہمیں توفیق ہے ان نیک کاموں پر خرچ ہوں اور یہ جو سارے صدقات ہوں گے یہ خالصہ افریقہ کے فاقہ زدہ ممالک پر خرچ کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی آنکھیں کھولے جن کو قرآن نے کھلی کھلی نیکی کی تعلیم دی تھی لیکن اس سے یہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔آج کا یہ جو خطبہ تھایا ابھی جاری ہے۔یہ جاپان میں بھی سنا جا رہا ہے۔مغربی جرمنی میں بھی سنا جارہا ہے۔ماریشس میں بھی سنا جا رہا ہے ان کے علاوہ یہ خطبہ نیو یارک (امریکہ ) ڈنمارک اور بریڈ فورڈ میں بھی سنا جارہا ہے تو یہ جو مواصلات کے نئے ذرائع ہیں حیرت انگیز ترقی کر چکے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جو خطبے وہاں سنتے ہیں وہ اپنے جمعہ کا اس کو حصہ نہ بنائیں۔میں اس بات کو جائز نہیں سمجھتا کہ خطبہ کہیں اور پڑھا جار ہا ہو اور باقی لوگ باقاعدہ اس کو جمعہ کے حصے کے طور پر فریضے کی ادائیگی میں شامل کر لیں اپنا جمعہ آپ کو الگ پڑھنا ہوگا اور پھر جاپان میں تو اس وقت وقت ہی اور ہے۔وہاں رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے ہیں اس لئے وہاں تو جمعہ کا ویسے ہی سوال نہیں ہے۔بہر حال میں آپ کو بتارہا ہوں کہ ان ممالک میں بھی یہ سنا جارہا ہے۔یہ سارے بھی اس تحریک میں براہ راست شامل ہو سکیں گے۔ان کو بھی دعاؤں میں یادرکھیں۔ان