خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 561 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 561

خطبات طاہر جلد ۱۰ 561 خطبہ جمعہ ۵ر جولائی ۱۹۹۱ء ہیں ربَّالِم كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَرَتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ اے خدا اتنی جلدی تو نے جہاد فرض کر دیا ابھی تو ہمیں طاقت ہی کوئی نہیں آئی۔کاش کچھ اور مدت کے لئے اس فرضیت جہاد کو ٹال دیا ہوتا قُل مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِیل ان سے کہہ دے کہ تم دنیا میں چند دن اور بھی رہ جاؤ گے تو بالآخر یہ دنیا عارضی ہے اور اس دنیا کے فائدے بھی چند دنوں کے فائدے ہیں۔جو باقی رہنے والی حسنات ہیں وہ تو آخرت ہے۔پس چند دن کے جہاد کو ٹالنے سے تمہیں کیا فرق پڑے گا۔بہر حال یہ جو دعا ہے یہ اس سے پہلے کی ایک کیفیت سے تعلق رکھتی ہے جو کھوکھلی کیفیت ہے اور وہ مومنوں کو دھوکا دینے والی بات ہوتی ہے۔عام طور پر ایسے لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں وقت آنے پر ہمیشہ بزدلی دکھایا کرتے ہیں۔پھر سورہ انعام ۲۸ تا ۳۱ میں الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی یہ دعا ہے وَلَوْتَرَى إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا لَيْتَنَا نُرَةٌ وَلَا نُكَذِبَ بِايْتِ رَبَّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ کاش تو دیکھتا ان لوگوں کو جو آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے یعنی مرنے کے بعد ان کا عذاب ان کو دکھائی دینے لگے گا۔فَقَالُوا لَيْتَنَا نُرَةٌ وَلَا نُكَذِّبَ بِايْتِ رَبَّنَا کاش ایسا ہو کہ ہمیں واپس لوٹا دیا جائے۔تب ہم ہرگز اپنے خدا کی اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہیں کریں گے وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اور ہم یقیناً مومنوں میں سے ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بل بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّ والعَادُ وَالِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ بَلْ بَدَ الَهُمْ مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ان کی وہ صورت حال وہ حقیقت ظاہر ہو چکی ہے جو اس سے پہلے وہ چھپایا کرتے تھے۔لیکن اگر وہ دوبارہ لوٹا دئیے جائیں تو پھر بھی وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا جاتا تھا یا منع کیا جاتا ہے اور اس دعوے میں وہ جھوٹے ہیں کہ اگر ہمیں ایک اور مہلت دی جائے تو اس مہلت سے استفادہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی آیات کی تصدیق کریں گے اور خدا تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کریں گے۔یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے اور اس کا فیصلہ دراصل اس دنیا میں ہو چکا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ اگر ان کو دوبارہ لوٹایا جائے تو وہی کریں گے می محض ایک دعوی نہیں بلکہ اس کا ثبوت ان لوگوں کی زندگیوں سے بار ہا ملتا ہے ہر وہ شخص جو اپنے گناہ کے نتیجے میں اپنی پاداش عمل کا منہ دیکھنے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی سزا قریب آگئی ہے۔ہمیشہ یہی