خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد ۱۰ 560 خطبہ جمعہ ۵/ جولائی ۱۹۹۱ء وَقَالُوا رَبَّنَالِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخْرَتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيلًا اس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے کیوں ہم پر قتال اتنا جلدی فرض کر دیا کاش تو نے اسے کچھ مدت کے لئے ٹال دیا ہوتا ان سے کہہ دے کہ دنیا کی زندگی تو ایک عارضی فائدے کی جگہ ہے اور باقی رہنے والی بھلائی آخرت ہی میں ہے۔اور تم پر کوئی اتنا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا جتنا کھجور کی گٹھلی کے اندر لکیر ہوتی ہے۔اس دعا کا پس منظر یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّکوة کہ کیا تو نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا تھا کہ تم لوگوں سے اپنے ہاتھ کو رو کے رکھو۔وَاقِیمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكُوةَ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔یہاں ایسے لوگوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔جن پر یکطرفہ ظلم ہور ہے ہیں اور اس ظلم کے دور میں وہ بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں اجازت نہیں دی جاتی کہ ہم اپنا دفاع کریں۔ہمیں کیوں اجازت نہیں دی جاتی کہ ہم بھی جوابی حملے کریں اور اس مزاج کے لوگ جیسے پہلے زمانوں میں پائے جاتے تھے اس زمانے میں بھی پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں جو احمدیوں پر ایک لمبا ابتلاء کا دور گزرا ہے۔اس میں مجھ سے بھی ایسے مطالبے ہوئے ہیں اور بعض خطوط کے ذریعے بھی بڑے بڑے احتجاج ملتے ہیں کہ ہمیں بھی موقع دیں۔ہم بھی جوابی کارروائی کریں جس طرح وہ ہم پر ظلم کرتے ہیں ہم اس کا بدلہ ان سے اتاریں لیکن ان کو میں ہمیشہ صبر کی تلقین کرتا ہوں۔پس قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ مومنوں کو جوابی حملے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ نصیحت فرماتا ہے کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور صبر سے کام لو۔دعا کے ذریعے اور زکوۃ کے ذریعے نیک کاموں میں خرچ کر کے تسکین قلب حاصل کر ولیکن وہ لوگ جب بالآخران پر جہاد فرض کر دیا جاتا ہے تو اس وقت ان کا مزاج بالکل الٹ جاتا ہے۔وہ جو پہلے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں موقع دیا جائے ہم جوابی کارروائی کریں گے ان کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ کہتے