خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد ۱۰ 558 خطبہ جمعہ ٫۵ جولائی ۱۹۹۱ء مضمون کی طرف آتا ہوں۔ایک لمبے عرصے سے نماز سے متعلق خطبات کا ایک سلسلہ جاری ہے جس میں سورہ فاتحہ سے نماز میں استفادہ کرنے سے متعلق مختلف خطبات دیئے ہیں۔آخری خطبہ اس مضمون پر تھا کہ نماز میں جب ہم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں تو وہ خدا کے پاک بندے جن پر خدا نے انعام فرمایا ان کے رستے پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں اس لحاظ سے ہم پر ضروری ہے کہ اس سفر کو آسان کرنے کے لئے ان ہی لوگوں کی دعائیں مانگیں جن کی قبولیت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمائے۔پس آخری خطبہ جو امریکہ میں اس موضوع پر تھا اس میں منعم علیہ گروہ کی دعاؤں میں سے آخری دعاؤں پر میں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔اس دعا کا اگلا حصہ ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اے ہمارے رب ہمیں اس رستے پر نہ چلانا جس پر وہ انسان چلتے رہے جو تیرے غضب کا نشانہ بنے یا وہ لوگ چلے جنہوں نے کچھ عرصہ صراط مستقیم پر چل کر صراط مستقیم کو چھوڑ دیا اور بھٹک گئے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ بھی بعض دعائیں کیا کرتے تھے اور جیسے منعم علیہ گروہ کی دعائیں قرآن کریم میں درج ہیں الْمَغْضُوبِ اور الضَّالِینَ کی دعائیں بھی درج ہیں پس ضروری ہے کہ ہم ان دعاؤں سے بچیں اور ان دعاؤں کی روح سے بچیں جو قرآن کریم میں عبرت کے طور پر ہمارے لئے محفوظ کی گئی ہیں اور اس پہلو سے آج کا خطبہ اسی موضوع پر ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَالَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (البقره: ۲۰۱) کہ بعض انسانوں میں سے ایسے بھی ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہمیں اس دنیا کی حسنہ عطا فرماید وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اس دعا کا پس منظر یہ ہے کہ حج کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا کہ جب تم حج کے مناسک ادا کر چکو یعنی عبادت پوری کر چکو تو پھر اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے آبا ؤ اجداد کو یا دکیا کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر اس کے بعد فرماتا ہے کہ بعض ان میں سے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی اچھی چیزیں عطا فرما۔