خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 552

خطبات طاہر جلد ۱۰ 552 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء تعالیٰ نے اپنے جلوے کو کس شان کے ساتھ ظاہر فرمایا۔پس اگر خدا کی ملکیت کے جلوے دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی ملکیت کے دائرے میں رہیں۔پھر دیکھیں کہ خدا کس طرح آپ کی نصرت فرماتا ہے اور اللهِ النَّاسِ ہر قسم کی خواہشات سے نجات کے لئے یہ دعا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں خود فرماتا ہے کہ کئی دفعہ انسان اپنی تمناؤں کو اپنا معبود بنالیتا ہے۔اور وہ نہیں جانتا کہ وہ مشرک ہورہا ہے۔بظاہر یہی کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کوئی خدا نہیں ہے سوائے اللہ کے۔لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا خدا بنائے پھرتا ہے۔چھوٹے چھوٹے طاقتور لوگوں کو اپنا خدا بنائے پھرتا ہے اور اپنی تمناؤں کو ہر دوسری چیز پر غالب رکھتا ہے۔ایسا شخص جب یہ دعا کرے گا تو اس کی دعا میں کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ خدا کہے گا تم کہتے ہو کہ مجھے تم نے اللہ بنایا اور روزمرہ کی زندگی میں تم نے سینکڑوں اور بت بنائے ہوئے ہیں۔اس لئے دعاؤں میں اثر کے لئے نیک اعمال کی بھی ضرورت ہے اور اگر کامل نیک اعمال نہ بھی ہوں تو نیک نیتی کے ساتھ نیک اعمال کی کوشش کرنے کا دعاؤں میں بہت بڑا دخل ہے۔انسان عاجزی کے ساتھ یہ تو کہ سکتا ہے کہ اے خدا میں گنہگار ہوں مجھ سے بہت ہی بدیاں سرزد ہوتی ہیں، میں بار بار گناہوں میں مبتلا ہوتا ہوں لیکن مرا دل تیرا احترام کرتا ہے، میرا دل تجھ سے محبت کرتا ہے، میں جانتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی نہیں جو مجھے بچا سکے۔یہ التجا اگر درد سے کی جائے تو اللہ تعالیٰ بہت غفور الرحیم ہے وہ گناہوں سے پردہ پوشی بھی فرماتا ہے۔ان کی بخشش بھی فرماتا ہے۔لیکن دل کی آخری تمنا خدا ہونا چاہئے۔اس کا معنی ہے اللہ آخری تمنا ،آخری مدعا، آخری مقصود خدا ہونا چاہئے۔اگر یہ ہو جائے تو پھر آپ کی یہ دعا غیر معمولی طاقت کے مظاہرے دکھائے گی۔الهِ النَّاسِ میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو تمام بنی نوع انسان کا ایک ہی معبود ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ کس چیز سے پناہ مانگ رہا ہوں۔ہر قسم کے وسوسوں سے۔الْوَسْوَاسِ کہتے ہیں وسوسے پھیلانے والوں کو۔عام طور پر وسوسوں سے نجات پانے کے لئے دعا مانگی جاتی ہے۔مگر لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ایسے وسوسے پیدا کرنے والے کے شر سے جو الخناس بھی ہے، یعنی خاموشی سے شرارت سے وسوسے پیدا کر دیتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے اور بسا اوقات آپ کو پتا بھی نہیں لگتا کہ کس بدنیتی کے ساتھ آپ کے دل میں ایک شک کا بیج بو گیا ہے۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ایک ایسا دور آنے والا ہے جب