خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 550

خطبات طاہر جلد ۱۰ 550 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء اپنا ایک رعب بھی قائم رکھتے ہیں کہ ہمارے دم پھونکنے کے نتیجہ میں تمہیں یہ نقصان پہنچا ہے پس ہر قسم کے اس فتنہ سے بچایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں تاریکی پھیلے، روشنی کم ہو ایک نئی تخلیق ہو لیکن بدیاں لے کر آئے یا خود بد ہو جائے یا جہاں سے نکلی ہے اس کو بد بنادے۔ہر اس قسم کے احتمالات کے لئے یہ کامل دعا ہمیں سکھائی گئی اور پھر فرمایا وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ( الفلق :4) ہمیں حاسد کے شر سے بچا جب وہ حسد کرے۔یہ مضمون کچھ الجھا ہوا سا نظر آتا ہے کیونکہ حاسد کے شر سے بچا نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حاسد کے شر سے بچا جب وہ حسد کرے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ محض حسد کسی کو نقصان نہیں پہنچا تا۔جب وہ حسد کے نتیجہ میں بدعمل کی ٹھانتا ہے۔جب وہ نقصان پہنچانے کی کوئی تدبیر کرتا ہے تو وہ وقت ہے جب یہ کہا گیا اِذَا حَسَدَ ور نہ لوگ خالی حسد کرتے پھرتے رہتے ہیں، جلتے رہتے ہیں۔انکا اپنا نقصان ہوتا ہے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تو حاسد کہہ کر یہ تو بتا دیا کہ وہ ہر وقت حسد کی حالت میں ہے پھر اِذَا حَسَدَ کا کیا مطلب ہے وہ شخص جو ہے ہی حاسد۔ہمیشہ ہی حسد کرنے والا ہو۔وہ جب حسد کرے گا، کیا مطلب ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جب وہ اپنے حسد کو ایک بدعمل میں تبدیل کر دے، شرارت میں تبدیل کر دے، جب فتنہ پیدا کرے، جب سازش کرے مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے تو جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے ایسی صورت میں تو مجھے اس کے شر سے بچا۔پھر آخری دعا یہ ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ (الناس : ۲ تا ۴ ) کہہ دے اور کہتا چلا جا کہ تم سب اپنے رب کے حضور یہ عرض کیا کرو۔اعُوذُ بِرَبِّ النَّاس کہ میں پناہ چاہتا ہوں اس ذات کی جو تمام بنی نوع انسان کے رزق کا ذمہ دار ہے ان کی پرورش کا ذمہ دار ہے۔ان کو ادنیٰ حالتوں سے اعلیٰ حالتوں کی طرف ترقی دیتے ہوئے لے جانے کا ذمہ دار ہے ، وہ ہر حال میں ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو حقیقی رب ہے۔مَلِكِ الناس وہی ہے جو تمام بنی نوع انسان کا بادشاہ بھی ہے۔الهِ الناس اور وہی ہے جو تمام بنی نوع انسان کا معبود بھی ہے یہ تین باتیں کہہ کر انسان کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھ لیا گیا۔کوئی بھی ایسا دائرہ نہیں جس میں انسان کوشش کرتا ہے جس پر یہ دعا حاوی نہ ہوگئی ہو اس پر میں بہت تفصیل سے اپنے رمضان کے درسوں میں روشنی ڈال چکا ہوں اور کئی گھنٹے اس