خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد ۱۰ 549 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء موجب بن جاتے ہیں۔ان کو سنبھالنے میں بہت دکھ اٹھاتی ہیں ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ از خود نہ وہ کھا سکتے ہیں، نہ چل سکتے ہیں نہ سنبھل سکتے ہیں۔پس تخلیق کے ساتھ جہاں بہت سی خیر وابستہ ہے اور یاد رکھیں کہ خیر غالب ہے وہاں کچھ طبعی شہر بھی ہیں۔پس یہ ایک بہت ہی اہم دعا ہے جسے ہمیں ہرایسی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے خدا کے حضور مانگتے رہنا چاہئے جس میں ایک کیفیت دوسری کیفیت میں بدلتی ہے وَ مِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (الفلق ۴) اندھیروں کے اس شر سے ہمیں بچا جبکہ ہر طرف فتنے اور شرارتیں پھیل جاتی ہیں وَ مِنْ شَرِّ النَّقْتُتِ فِي الْعُقَدِ (الفلق : ۵) اور ان پھونکنے والوں کے شر سے بچا جو رشتوں میں پھونکتے ہیں۔تعلقات میں پھونکتے ہیں اور بدنیتوں کے ساتھ کوشش کرتے ہیں کہ انسانی تعلقات کو خراب کر دیں اور ان میں دشمنیاں اور نفرتیں پیدا کریں۔اس دعا کی گھر یلو حالات کو سدھارنے کے لئے بھی بہت شدید ضرورت ہے۔آج تک بارہا میں نے توجہ دلائی ہے کہ اپنے گھروں میں رحمی رشتوں کا خیال کریں اور اپنے تعلقات کو سدھاریں لیکن اس کے باوجود کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جبکہ ایسی تکلیف دہ خبریں یاساسوں کی طرف سے یا بہوؤں کی طرف سے یا ماؤں کی طرف سے یا بیٹیوں کی طرف سے یا بیٹوں کی طرف سے نہ آتی ہوں جہاں ایک دوسرے سے شکوے کئے گئے ہیں۔بعض بیویاں اپنے خاوندوں کے شکوے کرتی ہیں، بعض بچے اپنے باپوں کے شکوے کرتے ہیں کہ سخت کلام ہیں۔بدتمیز ہیں ہر وقت گھر میں ایک عذاب بنا ہوا ہے، تعلقات کو توڑنے والے ہیں بجائے جوڑنے کے اور اس کے نتیجہ میں شر پیدا ہوتا ہے، اس کے نتیجہ میں گھر جنتوں کی بجائے جہنم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ ہر ایسے پھونکنے والے کے شر سے ہمیں بچا جس کے نتیجہ میں تعلقات خراب ہوتے ہیں اور یہاں پھونکنے والوں سے مراد جادوٹونے ٹو ٹکے کرنے والے بھی ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان کے دم سے ان کے بدنفس سے دوسرے کے حالات بگڑ جائیں افریقہ میں آج تک یہ رواج پایا جاتا ہے اور بہت سے احمدی مجھے افریقہ سے لکھتے ہیں کہ ہم کس طرح بچیں ان کا جواب ۱۴۰۰ سال پہلے قرآن کریم نے دے دیا تھا۔یہ مراد نہیں ہے کہ ضرور ان کے بدنفوس میں اثر ہے اصل بات یہ ہے کہ ان بد نفوس کے ساتھ وہ شرارتیں بھی کرتے ہیں اور دھو کے بازیوں سے بھی کام لیتے ہیں بعض مخفی طریقوں پر زہر بھی دے دیتے ہیں بعض دشمنوں سے نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں اور بظاہر