خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 548

خطبات طاہر جلد ۱۰ 548 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء لئے ہمیشہ کی جاری رہنے والی نہریں پیچھے چھوڑ جائیں گی۔پس قانون قدرت کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے یہ سوال ہے بارشوں نے تو آنا تھا وہ تو پہلے سے ہی بخارات کی صورت میں اٹھ کر کہیں اکٹھی ہو چکی تھیں لیکن کس طرح برسیں گی۔اکٹھی برسیں گی یا ٹھہر ٹھہر کر برسیں گی فائدہ پیچھے چھوڑ کر جائیں گی یا نقصان پیچھے چھوڑ کر جائیں گی یہ فیصلے انسان کے اعمال نے کرنے تھے پس ایسا ہی ہوا۔دیکھیں بارشیں آئیں لیکن اور رنگ میں آئیں بجائے فائدہ پہنچانے کے ہمیشہ کے لئے اس قوم کا نشان مٹا گئیں۔یہ دعا سورۃ نوح آیات ۶ تا ۲۹ سے لی گئی ہے یعنی ان آیات میں وہ سارا مضمون بھی بیان ہے اور دعا بھی اس میں شامل ہے۔اب میں آخری دو دعاؤں کا ذکر کرتا ہوں جو معوذتین کے نام سے مشہور ہیں اور جن میں قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ کہہ کر ہمیں بعض دعا ئیں سکھائی گئی ہیں فرما یا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ( الفلق :۲) اے محمد لے تو یہ کہ اور کہتا چلا جا اور جو سنے وہ بھی آگے یہ پیغام دیتا چلا جائے کہ تم اپنے رب سے یہ کہا کرو۔اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ ہم اس رب کی پناہ میں آتے ہیں جو تخلیق کا رب ہے۔جو راتوں کو صبح میں تبدیل کرتا ہے اور صبحوں کو راتوں میں بدلتا ہے جس کی طاقت سے یا جس کی تقدیر سے نئی نئی چیزیں پھوٹتی ہیں۔گٹھلیاں پھٹتی ہیں اور ان سے کونپلیں نکلتی ہیں جو درخت بن جاتی ہیں۔بیج پھوٹتے ہیں اور طرح طرح کی سبزیاں اور پودے پیدا کرتے ہیں۔اس سارے نظام کو فلق کا نظام کہا جاتا ہے ایک عورت حاملہ ہوتی ہے اور ایک بچے کو پیدا کرتی ہے پس کائنات میں جہاں بھی ایک چیز اپنی کیفیت بدل کر ایک دوسرے روپ میں تبدیل ہوتی ہے اس نظام کو نظام فلق کہا جاتا ہے۔تو یہ دعا سکھائی گئی کہ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تو کہ خود بھی کہہ اور لوگوں سے بھی کہہ اور وہ لوگ آگے لوگوں سے کہتے چلے جائیں کہ وہ خدا سے یہ عرض کیا کریں کہ اے خدا! ہم رب فلق کی پناہ چاہتے ہیں۔یعنی تیری پناہ چاہتے ہیں جس نے یہ نظام پیدا فرمایا ہے مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (الفلق :۳) ہر تخلیق کے ساتھ شروابستہ ہیں ہمیں ہر تخلیق کی خیر تو عطا فرما۔لیکن ہر تخلیق کے شر سے بچالے۔اب آپ دیکھیں بعض عورتیں بے چاری حاملہ ہوتی ہیں 9 مہینے تکلیف اٹھاتی ہیں لیکن بچہ پیدا کرتی ہیں اور اسی حالت میں وفات پا جاتی ہیں اور اپنے بچے کا منہ دیکھنا بھی ان کو نصیب نہیں ہوتا، بعض ایسے بچے پیدا کرتی ہیں جو ساری عمران کے لئے سوہان روح بن جاتے ہیں ، عذاب کا