خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 544

خطبات طاہر جلد ۱۰ 544 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء سلوک کیا گیا تو بددعا میں بے حد بے صبری کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اچھا اس نے ہماری بات نہیں مانی رد کر دی ہے اب دیکھو خدا کا عذاب اسے پکڑے گا۔یہ بالکل جاہلانہ اور بچگانہ باتیں ہیں اور غیر مومنانہ باتیں ہیں خدا کے انبیاء کی طرز اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ پیغام رسانی کی حد کر دیتے ہیں اس طرح پیغام پہنچاتے ہیں کہ عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور پھر بظاہر نا کام ونامراد ہونے کے باوجود وہ خدا سے عذاب نہیں چاہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خودان کو بتائے کہ کسی قوم کا کیا انجام ہونے والا ہے۔اب دیکھئے حضرت نوح علیہ السلام نے کس طرح دعوت الی اللہ کا حق ادا کیا تھا۔امریکہ میں بار بار مجھ سے یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے تو دعوت الی اللہ کا حق ادا کیا، لوگ سنتے ہی نہیں مگر کیا آپ نے اس طرح کیا جس طرح حضرت نوح علیہ السلام بیان کر رہے ہیں۔قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَا را (نوح:۶) عرض کیا اے میرے رب میں نے تو اپنی قوم کو دن کو بھی پکارا اور رات کو بھی پکارا فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَا عِثَ إِلَّا فِرَارًا (نوح: ۷) اور میری پکار نے ان کو مجھ سے متنفر ہونے کے سوا اور کچھ نہ دیا مجھ سے اور زیادہ بھاگنے لگے۔وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ( نوح: ۸) کہ اے میرے خدا جب بھی میں نے ان کو بلایا تا کہ تو انہیں بخش دے اپنی خاطر نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ تیری بخشش حاصل کریں۔جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دیں وَاسْتَغْشَواثِيَابَهُمْ اور اپنے سروں پر اور اپنے کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے وَاَصَرُّ وَاوَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا اور انہوں نے ضد کی کہ ہم ہرگز نہیں مانیں گے اور بہت بڑے تکبر سے کام لیا ہے لیکن اس کے باوجود میں ان سے مایوس نہیں ہوا۔میں انہیں تیری راہوں کی طرف بلاتا رہا جس جس طرح مجھے خیال گزرا کہ شاید اس طرح یہ لوگ مان جائیں میں ویسے ہی طریق اختیار کرتا چلا گیا۔یہ سننے کے بعد انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اب اس کے بعد کوئی دعوت کی راہ باقی رہی ہوگی آپ کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرے کہ کانوں میں انگلیاں ڈالے سر اور منہ پر کپڑے لیٹے اور بار بارضد اور تکبر سے کہے کہ جاؤ جو کرنا ہے کر لو میں ہرگز تمہاری بات نہیں سنوں گا۔تو آپ کہیں گے ہر راہ ختم ہوگئی ہے مگر حضرت نوح اس ذکر کو جاری رکھتے ہیں کہتے ہیں ثُمَّ اِنّى دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ( نوح:۹) پھر مجھے خیال آیا کہ