خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد ۱۰ 543 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء الْجَنَّةِ وَنَجِّنِى مِنْ فِرْعَوْنَ وَنَجِّنِى مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) (التحريم : ۱۲) وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا اور اللہ تعالیٰ نے مومن بندوں کے لئے ایک یہ بھی مثال بیان فرمائی ہے کہ وہ بعض پہلوؤں سے فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں۔کس پہلو سے؟ اس پہلو سے کہ جب اس نے اپنے آپ کو مجبور اور مغلوب دیکھ کر اور ایک فاسق و فاجر بادشاہ کے ہاتھوں بے بس پاتے ہوئے یہ عرض کیا کہ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا اے خدا مجھے تو اپنے پاس گھر عطا کر۔یہاں فرعون کے گھر میں بسنے والی ایک مجبور عورت ہے اس کا اور کوئی اپنا گھر نہیں۔کتنی دردناک دعا ہے۔اس نے اپنے سارے دکھوں کا تصور کر کے کہ میں خدا کی عبادت کرنا چاہتی ہوں میں نیک بنا چاہتی ہوں مگر ایک ظالم کے گھر میں ڈالی گئی ہوں جو ایسا ظالم ہے جو بڑی عظیم الشان سلطنت پر حکومت کر رہا ہے اور ساری قوم اس سے ڈر رہی ہے اس کے گھر سے نکل کر جاؤں بھی تو کہاں جاؤں اس لئے دنیا کا کوئی گھر مجھے پناہ نہیں دے سکتا یہ مضمون ہے۔عرض کرتی ہے۔رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ اے خدا مجھے تو اپنے پاس جنت میں گھر بنادے۔وَنَجِنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ مجھے فرعون سے بھی نجات بخش اور اس کی بداعمالیوں سے بھی نجات بخش۔مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ اور مجھے ظالموں کی قوم سے نجات عطا فرما۔پس مومنوں پر بھی ایسی کیفیت آتی ہے کہ وہ بے بس ہو جاتے ہیں ایک ایسے ملک میں بستے ہیں جہاں کا بادشاہ ظالم ہے جہاں کی قوم ظالم ہے وہ وہاں سے نکل کر کہیں جا نہیں سکتے جو نکل کر جاسکتے ہیں وہ تو ہجرت کر جاتے ہیں مگر ایسے بھی کمزور ہیں جیسے فرعون کی بیوی ہے وہ نہ گھر سے نکل سکتی ہے نہ ملک سے نکل سکتی ہے۔ایسے بے بس بھی ہیں ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے دیکھیں کیسے نجات کے سامان مہیا فرما دئیے۔قرآن کریم میں ایک ایسی دردناک دعا لکھ دی جس کے نتیجہ میں ایسے بے بس لوگ بھی فیض پا جاتے ہیں اور براہ راست خدا سے نجات کی راہیں مانگتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ اس دنیا کے گھر کی کیا بات ہے ہمیں جنت میں اپنے حضور گھر عطا فرما۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک اور دعا ہے جو بہت ہی دردناک ہے اور اس میں تفصیل کے ساتھ یہ نقشہ کھینچے گئے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے کیا کیا کچھ کیا بعض لوگ پیغام پہنچانے کے بعد جب دیکھتے ہیں کہ پیغام کو قبول نہیں کیا گیا یا ان سے حقارت کا