خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 541

خطبات طاہر جلد ۱۰ 541 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء کہ کیا ان کے بائیں طرف نور نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے نور نہیں ہوگا یہ اس محاورے کا مطلب نہیں۔سامنے بھاگنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رستے روشن ہوں گے۔انہیں معلوم ہوگا کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور دائیں طرف کے نور کا مطلب یہ ہے کہ ان کا دین روشن ہوگا اور دین کے معاملات میں غلطیوں سے مبرا ہوں گے کیونکہ سامنے تو انسان رستہ دیکھنے کے لئے نور کا محتاج ہوا کرتا ہے۔آپ ٹارچ لے کر جب اندھیرے میں چلتے ہیں تو ٹارچ کا منہ پیچھے کی طرف کر کے تو آگے نہیں بڑھتے۔پس اس میں کیفیت بیان ہو گئی جس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ترقی کرنے والے لوگ ہوں گے اور جو محاورہ ہے نُورُهُمْ يَسْعَی بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اس نے ایک بہت ہی خوبصورت منظر کھینچا ہے حضرت محمد مصطفے ملے اور آپ کے غلاموں کی تیز رفتاری کا۔جتنا تیز یہ آگے قدم بڑھائیں گے اتنا ہی نور تیزی سے آگے آگے بڑھے گا جس طرح بعض دفعہ ایک پائلٹ اس لئے زیادہ تیز آگے بڑھتا ہے کہ پیچھے آنے والا تیز رفتار ہے ویسا ہی نقشہ نور کا کھینچا گیا ہے کہ وہ ایسی تیزی کے ساتھ خدا کی جانب قدم بڑھانے والے ہیں کہ نور کو جلدی ہوگی کہ میں کہیں پیچھے نہ رہ جاؤں اور وہ ان کے رستے روشن کرتا چلا جائے گا اور بِايْمَانِهِمْ کا مطلب ہے کہ ان کا دایاں پہلو یعنی دین پوری طرح روشن ہوگا یعنی دنیا میں اگر وہ غلطیاں بھی کر جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں بعض باتوں میں دنیا کے لحاظ سے وہ لاعلم بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس سے ان کی روحانی شخصیت پر کوئی بداثر نہیں پڑے گا اور پھر وہ یہ دعا کریں گے رَبِّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا اے خدا ہمارا نور کامل فرما دے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ نور کسی ایسی حالت کا نام نہیں ہے جہاں روشنی مکمل ہو جائے۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا روشنی درجہ بدرجہ بڑھتی رہتی ہے اور درجہ بدرجہ کم بھی ہوتی رہتی ہے یہ روشنی جس میں ہم اب بیٹھے ہوئے ہیں ہم سمجھ رہے ہیں کہ بہت ہی اچھی روشنی ہے دور تک ہر چیز ہمیں صاف دکھائی دے رہی ہے لیکن باہر کی دھوپ میں نکل کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ روشنی کچھ اور ہی روشنی ہے اور اسی زمانے میں اسی دن آپ کسی سخت گرم ملک کی دھوپ میں جا کر نکل کر دیکھیں تو اتنی تیز روشنی ہوگی کہ آنکھیں نہیں کھلیں گی تو روشنی اپنی کیفیت کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا کا مطلب یہ ہے کہ ہمار انور بڑھاتا چلا جادوسرے نُورَنا میں ایک اور اشارہ فرما دیا گیا کہ ہر شخص کے اندر اللہ تعالیٰ نے اندرونی صلاحیتیں رکھی ہوئی ہیں اور دراصل وہی ہیں جن سے وہ نور پاتا ہے۔آنکھوں کا تعلق نور سے ہے جس