خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 540

خطبات طاہر جلد ۱۰ 540 خطبہ جمعہ ۲۸ / جون ۱۹۹۱ء والا کرنا درست نہیں بلکہ یہ معنی ہے کہ اے وہ طاقت ور ہستی جس کی طاقت میں عزت واحترام شامل ہے اور الْحَكِيمُ تو حکمتوں والا خدا ہے ہمیں بھی عزت والی طاقت عطا فرما اور ہمیں بھی حکمتیں عطا فرما۔ایک دعا ہے جس کا ذکر توبۃ النصوح کرنے والوں کے ذکر کے بعد آتا ہے۔یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جو خدا کے حضور سچی توبہ کرتے ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ ایک نور عطا فرماتا ہے اور وہ نور ان کے آگے بھی بھاگتا ہے ان کے پیچھے بھی ہوتا ہے اور ان کو ہر طرف سے گھیر لیتا ہے فرمایا: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ يَوْمَ لَا يُخْزِى اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُوْرُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو سچی توبہ کرو اور کامل تو بہ کر ممکن ہے کہ خدا اس کے نتیجہ میں تمہاری بدیاں تم سے دور فرمادے وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ اور تمہیں (التحریم:9) ایسے باغات میں داخل فرمائے جن میں دائگی نہریں بہتی ہیں۔يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِی یا درکھو ایک ایسا دن آنے والا ہے جبکہ خدا کا نبی ذلیل نہیں کیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر عزت بخشی جائے گی کیونکہ دنیا اس نبی کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ذلیل نہیں کیا جائے گا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر کوشش کو ناکام و نا مراد بنادیا جائے گا اور ہر عزت اس مقدس نبی کے حصے میں آئے گی فرمایا لَا يُخْزِى الله النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوْا مَعَهُ اور یہی سلوک ان لوگوں سے بھی کیا جائے گا جو اس کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں نُورُهُم يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِیهِمُ ان کا نور ان کے سامنے ان کے آگے آگے دوڑے گا۔وَبِأَيْمَانِهِمْ اور ان کے داہنے ہاتھ بھی يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا وہ یہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے کامل فرمادے اور ہمیں بخش دے إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيرٌ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔یہاں نور کے سامنے بھاگنے کا اور دائیں طرف بھاگنے کا ذکر ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے